مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 45

ترجمہ از ناشر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْـکَرِیْمِ بخدمت جناب حضرت اقدس خلیفۃ اللہ و رسول اللہ مسیح موعود ومہدی مسعود علیہ الصلوٰۃ والسلام السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اما بعدیہ عرض ہے کہ اس آیۃ شریف کے معنوں میں جو سورہ واقعہ میں ہے کہ ۔۔۔۔۔یعنی لوگ کہتے ہیں کہ اولین میں سے ایک گروہ مقربین کا ہے جو صحابہ ؓ محمد رسول اللہ ہیں اور آخرین میں سے کچھ مقربین ہیں جومسیح موعود علیہ السلام کے صحابہؓ ہیں۔یہ معنٰی ہمارے نزدیک درست نہیں بلکہ صحیح یہ ہے کہ اوّلین صحابہؓ میں مقربین زیادہ ہیں اور آخرین میں صحابہؓ تھوڑے ہیں اور اسی طرح جماعت احمدیہ میں شروع میں جو لوگ بیعت میں داخل ہوئے ہیں اُن میں مقربین زیادہ ہیں اور وہ جو بعد کے زمانہ میں بیعت میں داخل ہوئے ہیں اُن میں مقربین کم ہیں اور پہلے معنٰی اس وجہ سے ٹھیک نہیں کہ وہ سورہ فاتحہ کے مخالف ہے کیونکہ یہ بھی ایک عظیم نعمت ہے کہ مسیح موعود کی اتباع میں مقربین بہت سارے ہوں اُسی تعداد میں جو صحابہؓ میں تھے پس یہ نعمت مسیح موعود علیہ السلام کو کیوں نہ دی گئی اور حدیث شریف سے بھی مخالف ہے جو حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے معلوم نہیں کہ اُس کا اوّل بہترہے یا اُس کا آخر نیز یہ کہ اس آیت شریف سے بھی پتہ چلتا ہے کہ پہلے معنی درست نہیں  الخ سورۃ التوبۃ پ ۱۱ اور اس آیت شریف سے بھی پتہ چلتا ہے کہ صحیح نہیں  ا لخ سورۃ الجمعۃ پ۲۸۔الغرض اس امر میں فیصلہ چاہتا ہوں دوسرایہ کہ میں چاہتا ہوں کہ ہم عاجزوں کے حق میں جامع دعا مرحمت فرمائیں۔العارض عبدالستار وغلام محمد افغان از قادیان