مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 45
مکتوبات احمد لده جلد پنجم ترجمه از ناشر بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بخدمت جناب حضرت اقدس خلیفة اللہ و رسول اللہ مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ الصلوۃ والسلام السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اما بعد یہ عرض ہے کہ اس آیہ شریف کے معنوں میں جو سورہ واقعہ میں ہے کہ وَالسَّبِقُونَ التَّبِقُونَ - أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ - فِي جَنَّتِ النَّعِيمِ - ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ - وَقَلِيلٌ مِنَ الْآخِرِينَ ۔ یعنی لوگ کہتے ہیں کہ اولین میں سے ایک گروہ مقربین کا ہے جو صحابہ محمد رسول اللہ ہیں اور آخرین میں سے کچھ مقربین ہیں جو مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ ہیں۔ یہ معنی ہمارے نزدیک درست نہیں بلکہ صحیح یہ ہے کہ اولین صحابہ میں مقربین زیادہ ہیں اور آخرین میں صحابہ تھوڑے ہیں اور اسی طرح جماعت احمد یہ : یہ میں شروع میں جو لوگ بیعت میں داخل ہوئے ہیں اُن میں مقربین زیادہ ہیں اور وہ جو بعد کے زمانہ میں بیعت میں داخل ہوئے ہیں اُن میں مقربین کم ہیں اور پہلے معنی اس وجہ سے ٹھیک نہیں کہ وہ سورہ فاتحہ کے مخالف ہے کیونکہ یہ بھی ایک عظیم نعمت ہے کہ مسیح موعود کی اتباع میں مقربین بہت سارے ہوں اُسی تعداد میں جو صحابہ نہیں تھے پس یہ نعمت مسیح موعود علیہ السلام کو کیوں نہ دی گئی اور حدیث شریف سے بھی مخالف ہے جو حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے معلوم نہیں کہ اُس کا اول بہتر ہے یا اُس کا آخر نیز یہ کہ اس آیت شریف سے بھی پتہ چلتا ہے کہ پہلے معنی درست نہیں وَالسَّبِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهْجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَان الى سورة التوبة لاے اور اس آیت شریف سے بھی پتہ چلتا ہے کہ صحیح نہیں وَ آخَرِينَ مِنْهُم الحج سورة الجمعة -۲۵ ۔ الغرض اس امر میں فیصلہ چاہتا ہوں دوسرا یہ کہ میں چاہتا ہوں کہ ہم عاجزوں کے حق میں جامع دعا مرحمت فرمائیں۔ العارض عبدالستار و غلام محمد افغان از قادیان