مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 518
مکتوبات احمد ۵۱۸ جلد مکتوب بنام شاہ کابل ( ذیل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ کرامت نامہ درج کیا جاتا ہے جو ۱۳۱۳ ہجری کے شوال مہینے میں اعلیٰ حضرت نے سابق شاہ کابل کے نام بغرض تبلیغ لکھا تھا۔ اس خط کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ حضور نے کس بصیرت اور شوکت کے ساتھ اپنے دعوے کو پیش کیا ہے۔ اور ساتھ ہی تاج برطانیہ کی برکات کو کس دلیری سے ظاہر کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوگا کہ حضرت مسیح موعود بطور مذہبی فرض کے گورنمنٹ کی اطاعت اور وفاداری کا وعظ کر رہے ہیں ۔ اُمید ہے یہ خط نہایت دلچسپی سے پڑھا جاوے گا ۔ (ایڈیٹر ) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد عافا الله واید بحضرت امیر ظلّ سبحانی مظهر تفضلات یزدانی شاہ ممالک کا بل سلمہ اللہ عز وجل بعد ادعیه سلام و رحمت و برکت باعث این تصدیعہ آن که خاصه فطرت انسانی است که چون خبری از چشمۂ شیریں یا بد که مشتمل بر چندیں منافع نوع انسان باشد برغبته ومحبتے سوئے آن پیدا آید باز آن رغبت از قلب بر جوارح اثر انداز دو میخواهد کہ بہر نحو یکہ تو اند سوئے آں چشمه دود و آنرا بیند و از آب زلال آن منتفع و سیراب گردد چنیں چون صیت اخلاق فاضلہ و عادات کریمہ و ہمدردی اسلام مسلمین آن شاه نیک خیال بد یار ہند جا بجا متواتر رسید و ذکر ذ ثمرات طیبه آن شجره مبارکه دولت و سلطنت بشهر و دیار منتشر گشت و دیده شد که مردم شریف و نجیب بمدح سلاله دودمان شاہی رطب اللسانند - مرا کہ دریں قحط الرجال بباعث کمی مردمان اولوالعزم و شاہان ذوالمجد والكرم به حزن واندوه زندگی بسر میکنم چنداں مسروری و فرحتے دست داد که نزدم آن الفاظ نیست کہ ادائے آن کیفیت تو اند کرد ۔ ہزار ہزار شکر و سپاس آن خدائے کریم را که چنین مبارک وجودے۔ بے شمار وجود ہا را از انواع و اقسام تباہی ہا بحفظ و حمایت شمار را از و تباہی بابی از انواع و اقسام بتابی با حفظ و حمایت خود در آورد ۔ در حقیقت آن مردم بسیار خوش قسمت اند که این چنیں شا ہے گیتی پنا ہے نیک نیست و