مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 512 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 512

(اخبار کی قیمت اگرپیشگی وصولی کی جاوے تو اخبار کے چلانے میں سہولت ہوتی ہے جو لوگ پیشگی قیمت نہیں دیتے اور بعدکے وعدے کرتے ہیں۔ان میں سے بعض تو صرف وعدوں پر ہی ٹال دیتے ہیں اور بعض کی قیمتوں کی وصولی کے لئے باربار کی خط و کتابت میں اور ان سے قیمتیں لینے کے واسطے یادداشتوں کے رکھنے میںاس قدر د ّقت ہوتی ہے کہ اس زائد محنت اور نقصان کو کسی حد تک کم کرنے کے واسطے اور نیز اس کا معاوضہ وصول کرنے کے واسطے اخبار بدر کی قیمت مابعد نرخ میں ایک روپیہ زائد کیا گیا ہے یعنی مابعد دینے والوں سے قیمت اخبار بجائے  (تین روپے)کے (چار روپے) وصول کئے جائیں گے۔اس پر ایک دوست لائل پور نے دریافت کیا ہے کہ کیا یہ صورت سود کی تو نہیں ہے؟ چونکہ یہ مسئلہ شرعی تھا۔اس واسطے مندرجہ بالا وجوہات کے ساتھ حضرت اقدس ؑ کی خدمت میں پیش کیا گیا اس کا جواب جو حضرت نے لکھا وہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔) مکتوب السلام علیکم میرے نزدیک اس سے سوُد کو کچھ تعلق نہیں۔مالک کا اختیار ہے جو چاہے قیمت طلب کرے۔خاص کر بعد کی وصولی میں ہرج بھی ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص اخبار لینا چاہتا ہے تو وہ پہلے بھی دے سکتا ہے۔یہ امر خود اس کے اختیار میں ہے۔٭ والسلام مرزا غلام احمد ٭ بدر جلد۶ نمبر۷ مورخہ ۱۴؍فروری۱۹۰۷ء صفحہ ۴