مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 512
مکتوبات احمد ۵۱۲ جلد پنجم اخبار کی قیمت اگر پیشگی وصولی کی جاوے تو اخبار کے چلانے میں سہولت ہوتی ہے جو لوگ پیشگی قیمت نہیں دیتے اور بعد کے وعدے کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض تو صرف وعدوں پر ہی ٹال دیتے ہیں اور بعض کی قیمتوں کی وصولی کے لئے بار بار کی خط و کتابت میں اور ان سے قیمتیں لینے کے واسطے یادداشتوں کے رکھنے میں اس قدر دقت ہوتی ہے کہ اس زائد محنت اور نقصان کو کسی حد تک کم کرنے کے واسطے اور نیز اس کا معاوضہ وصول کرنے کے واسطے اخبار بدر کی قیمت ما بعد نرخ میں ایک روپیہ زائد کیا گیا ہے یعنی مابعد دینے والوں سے قیمت اخبار بجائے سے ( تین روپے) کے اللہ (چار روپے ) وصول کئے جائیں گے ۔ اس پر ایک دوست لائل پور نے دریافت کیا ہے کہ کیا یہ صورت سود کی تو نہیں ہے؟ چونکہ یہ مسئلہ شرعی تھا۔ اس واسطے مندرجہ بالا وجوہات کے ساتھ حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کیا گیا اس کا جواب جو حضرت نے لکھا وہ درج ذیل کیا جاتا ہے ۔ ) السلام علیکم مکتوب میرے نزدیک اس سے سود کو کچھ تعلق نہیں ۔ مالک کا اختیار ہے جو چاہے قیمت طلب کرے ۔ خاص کر بعد کی وصولی میں ہرج بھی ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اخبار لینا چاہتا ہے تو وہ پہلے بھی دے سکتا ہے ۔ یہ امر خود اس کے اختیار میں ہے کی والسلام مرزا غلام احمد ☆ بدر جلد ۶ نمبرے مورخہ ۱۴ فروری ۱۹۰۷ ء صفحه ۴