مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 509 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 509

الفضل قادیان دارالامان نمبر۹ جلد۳مورخہ ۱۳؍جولائی ۱۹۱۵ء صفحہ۲ ۱؎ المائدۃ : ۱۱۸ ٭٭ بدرقادیان نمبر۵۱،۵۲ جلد۹مورخہ ۲۷؍اکتوبر ۱۹۱۰ء صفحہ۱۲ مکتوب (ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں اپنی حالت زار پیش کر کے دعا کے واسطے درخواست کی۔حضرت نے اس کو مفصلہ ذیل جواب تحریر فرمایا) ’’ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ذوق شوق عبادت اور حضور نماز وغیرہ حالات کے بارے میں صرف یہ طریق رکھنا چاہییٔ کہ ہمیشہ نماز میں اپنے لئے دعا کریں۔خدا تعالیٰ کے کام بہت آہستگی سے ہوتے ہیں وہ جلدباز کو پسند نہیں کرتا۔جس طرح یہ امر خطرناک ہے کہ انسان کا دل گناہ سے سرد نہ ہو عبادت کا مزہ نہ آوے۔اس سے بڑھ کر یہ امر خطرناک ہے کہ انسان جلدی کرے اور خدا کو آزماوے بلکہ چاہییٔ کہ انسان سچے دل سے توبہ اور استغفار میں لگا رہے۔گو دعا میں بیس برس گزر جاویں اور کوئی نشان قبولیت دعا کا ظاہر نہ ہو۔خدا تعالیٰ بے نیاز ہے۔صبر کے ساتھ ہر ایک کو اس کا پھل دیتا ہے اور میں تو اپنی نماز میں اپنی جماعت کے ہر ایک فرد کے لئے عا کرتا رہتا ہوں۔کسی وقت تو دعا سن لے گا۔‘‘ ٭ مکتوب (ایک شخص نے اپنے مصائب اور تکالیف کو ناقابل برداشت بیان کرتے ہوئے ایک لمبا خط حضرت صاحب کی خدمت میں لکھ کر یہ ظاہر کیا کہ میں بہ سبب ان مصائب کے ایسا تنگ ہوں کہ خودکشی کا ارادہ رکھتا ہوں۔حضرت نے جواب میں اس کو لکھا کہ) ’’خود کشی کرنا گناہ ہے اور اس میں انسان کے واسطے کچھ فائدہ اور آرام نہیں ہے کیونکہ مرنے سے انسان کی زندگی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا بلکہ ایک نئے طرز کی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔اگر انسان اس دنیا میں تکالیف میں ہے تو خدا تعالیٰ کی نارضامندیوں کو ساتھ لے کر اگر دوسری طرف چلا جائے گا تو وہاں کے مصائب اور تلخیاں اس جگہ کی مرارت سے بھی بڑھ کر ہیں۔پس ایسی خودکشی اس کو کیا فائدہ دے گی۔