مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 504 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 504

فدا ہونے کے لئے طیار نہ ہو اور جب تک کہ ریا کی تمام جڑیں اور عُجب کی تمام جڑیں اور نفسانی غضب کی تمام جڑیں اور نفسانی حسد کی تمام جڑیں اور نفسانی خود نمائی کی تمام جڑیں اس کے دل سے بکلّی دور نہ ہو جاویں اور جب تک کہ خدا کی مہیمنت ایسے زور سے اس پر اثر نہ کرے کہ دوسرے تمام وجود ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح محسوس ہوں نہ ان کی ستائش سے خوش ہو نہ ان کی مذمت سے رنج پہنچے اور جب تک کہ ایک سچی اور پاک قربانی اپنے تمام وجود اور تمام قوتوں کی خدا کے سامنے پیش نہ کرے اور جب تک کہ نہ معمولی روح سے بلکہ اس کے ساتھ زندہ ہو اور جب تک کہ اس کے لئے ہر ایک تباہی اپنے ہاتھ سے کرنے کے لئے طیار نہ ہو اور جب تک سچی اور کامل محبت آں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی اس میں پیدا نہ ہو اور جب تک کہ وہ سچے اور کامل طور پر اعلاء کلمۃ الاسلام پر عاشق نہ ہو تب تک ہرگز ہرگز مکالماتِ الٰہیہّ سے مشرف نہیں ہو سکتا۔اسی کی طرف خدا تعالیٰ نے ان دو مختصر لفظوں میں اشارہ فرمایا ہے۔۔۱؎ ایسے لوگوں کی دماغی بناوٹ بھی ایک خاص ہوتی ہے۔جس قدر ان پر غم پڑتے ہیں اور جسقدر وہ متواتر نہایت سنگین امتحانوں کے ساتھ آزمائے جاتے ہیں اور ایک لمبا سلسلہ ناکامی کا دیکھنا پڑتا ہے اور کسی شخص کا دل اور دماغ ایسا نہیں ہوتا اور اگر ان کے مسلسل غموں میں سے کچھ تھوڑا غم بھی دوسرے پر پڑے تو یا تو وہ مر جاتا ہے اور یا دیوانہ ہو جاتا ہے۔پس مکالماتِ الٰہیہّ کی اپنے نفس سے خواہش نہیں ظاہر کرنی چاہئے خواہش کرنے کے وقت شیطان کو موقعہ ملتا ہے اور ہلاک کرنا چاہتا ہے بلکہ اپنا مدّعا اور مقصود ہمیشہ یہ ہونا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق تزکیہ نفس حاصل ہو اور ا س کی مرضی کے موافق تقویٰ حاصل ہو اور کچھ ایسے اعمال حسنہ میسر آ جاویں کہ وہ راضی ہو جائے۔پس جس وقت وہ راضی ہو گا تب اس وقت ایسے شخص کو اپنے مکالمات سے مشرف کرنا اگر اس کی حکمت اور مصلحت تقاضا کرے گی تو وہ خود عطا کر دے گا۔لیکن اصل مقصود اس کو ہرگز نہیں ٹھہرانا چاہییٔ کہ یہی ہلاکت کی جڑ ہے بلکہ اصل مقصود یہی ہونا چاہیے کہ قرآن شریف کی تعلیم کے موافق احکام الٰہی پر پابندی نصیب ہو اور تزکیہ نفس حاصل ہو اور خدا تعالیٰ کی محبت اور عظمت دل میں بیٹھ جائے اور گناہ سے نفرت ہو۔خدا نے بھی یہی دعا سکھائی ہے کہ