مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 40
مکتوب نمبر ۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ واضح باد کہ مارا باقوال دیگراں ہیچ تعلق نیست۔آنچہ از قرآن شریف مستنبط میشود ہمیں است کہ رسول آن باشد کہ خدمت رسالت وپیغام رسانی از خدا تعالیٰ بدو سپرد کردہ شود ونبی آنست کہ از خدا خبر ہائے غیب یا بدوبمردم رساند باقی ناحق تکلیف کردہ اندوچیزے نیست۔٭ والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ ترجمہ از ناشر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ واضح رہے کہ ہمیںدوسروں کے اقوال سے کوئی تعلق نہیں۔قرآن شریف سے جو کچھ مستنبط ہوتا ہے وہ یہی کہ رسول وہ ہوتا ہے جسے رسالت کی خدمت اور پیغام پہنچانا خدا تعالیٰ کی طرف سے سپرد ہوتا ہے اور نبی وہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پائے اور لوگوں تک پہنچائے۔باقیوں نے ناحق تکلیف اٹھائی ہے اور کوئی امر نہیں۔والسلام مرزا غلام احمدعفی عنہ ٭ الحکم نمبر۲۵ جلد۱۲ مورخہ ۶؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۱