مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 471
مکتوب بنام مولوی نظیر حسین سخا صاحب دہلوی قبلہ و کعبہ مدّظلکم العالی حضور کے پابوس کا از حد شوق تھا الحمد للہ کہ شرف زیارت حاصل ہوا۔حاجت ہے تو صرف یہ ہے کہ کچھ ہدایت فرمائی جاوے تاکہ حضوری حاصل ہو اور خدا کی طرف دل لگے۔اگر اسی پر جواب سے سرفرازی ہو تو یہ دستاویز عزت ہمیشہ حرزجان رہے گی۔زیادہ حد آداب۔فقط۔عریضہ نظیر حسین سخا دہلوی جواب حضرت اقدس السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ طریق یہی ہے کہ نماز میں اپنے لئے دعا کرتے رہیں اور سرسری اور بے خیال نماز پر خوش نہ ہوں بلکہ جہاں تک ممکن ہو توجہ سے نماز ادا کریں اور اگر توجہ پیدا نہ ہو تو پنج وقت ہریک نماز میں خدا تعالیٰ کے حضور میں بعد ہر ایک رکعت کے کھڑے ہو کر یہ دعا کریں کہ اے خدائے قادر ذوالجلال میں گنہگار ہوں اور اسقدر گناہ کی زہر نے میرے دل اور رگ وریشہ میں اثر کیا ہے کہ مجھے ر ّقت اور حضور نماز حاصل نہیں ہو سکتا تو اپنے فضل و کرم سے میرے گناہ بخش اور میری تقصیرات معاف کر اور میرے دل کو نرم کردے اور میرے دل میں اپنی عظمت اور اپنا خوف اور اپنی محبت بٹھادے تاکہ اس کے ذریعہ سے میری سخت دلی دور ہو کر حضور نماز میں میسّرآوے اور یہ دعا صرف قیام پر موقوف نہیں بلکہ رکوع میں اور سجود میں اور التحیات کے بعد بھی یہی دعا کریں اور اپنی زبان میں کریں اور اس دعا کے کرنے میں ماندہ نہ ہوں اور تھک نہ جاویں بلکہ پورے صبر اور پوری استقامت سے اس دعا کو پنج وقت کی نمازوں میں اور نیز تہجد کی نماز میں کرتے رہیں اور بہت بہت خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں کیونکہ گناہ کے باعث دل سخت ہو جاتا ہے ایسا کرو گے تو ایک وقت یہ مراد حاصل ہو جائے گی۔مگر چاہئے کہ اپنی موت یاد رکھیں آئندہ زندگی کے دن تھوڑے سمجھیں اور موت قریب سمجھیں یہی طریق حضور حاصل کرنے کا ہے۔٭ والسلام