مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 39
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ بخدمت جناب حضور حضرت اقدس خلیفۃ اللہ ورسول اللہ مسیح موعود ومہدی مسعود علیہ الصلوٰۃوالسلام السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عرض خاکسار چنین است کہ بیان مسئلہ ذیل مرحمت فرمودہ برائے من عنایت نمودہ شود۔آں این است کہ بعضے میگویند کہ رسول خاص است۔و نبی عام است۔پس ہر رسول نبی است وہر نبی رسول نیست یعنی رسول افضل است از نبی۔و بعضے میگویند کہ رسول ونبی یک است غرض نزد مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کدام صحیح ومنظوراست۔٭ خاکسار غلام محمد افغان ترجمہ از ناشر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ بخدمت جناب حضور حضرت اقدس خلیفۃ اللہ ورسول اللہ مسیح موعود ومہدی مسعود علیہ الصلوٰۃوالسلام السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ خاکسار کی عرض یہ ہے کہ ذیل کے مسئلہ میں عنایت فرماتے ہوئے جواب سے مطلع فرمائیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں رسول خاص ہے اور نبی عام ہے۔پس ہر رسول نبی ہے اور ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔یعنی رسول نبی سے افضل ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ رسول اور نبی ایک ہی ہوتے ہیں۔غرض مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے نزدیک کون سے معنی صحیح اور منظورہیں۔خاکسار غلام محمد افغان ٭ الحکم نمبر۲۵ جلد۱۲ مورخہ۶؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ۱