مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 454
بنی فاطمہ میں سے بھی کوئی مہدی ہوا ہو بلکہ ہوئے بھی ہیں جنہوںنے علاوہ عدل و انصاف کے حمایت اسلام اور دفع حملجات مخالفین اسلام میں جہاد بھی کئے ہیں دیکھو ریاض المستطابہ صفحہ۸۰ واما الذین قاموا بالامامۃ من الفاطمین فی بلاد العجم والعراق اکثر من عشرین اماما وتمکن منھم بضعۃ عشر الخ یعنی وہ لوگ کہ جنہوں نے بنی فاطمہ میں سے دعویٰ امامت و خلافت کیا عراق و عجم کے بلاد میں وہ بیس اماموں سے زیادہ ہیں اورانہیں میں سے دس صاحبوں سے زیادہ نے خلافت اور امامت پر قدرت پائی…آخر عبارت تک اور ان کی خلافت اور امامت میں کامل درجہ پر عدل و انصاف بھی ہوا اور تائید اسلام اور اعلاء کلمۃ اللہ اور جہاد بشرائط اسلامی بھی واقع ہوا اور بعضوں کی ان میں سے مواطاۃ ساتھ نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی پائی جاتی ہے مگر ہم کو ان آئمہ سے کچھ بحث نہیں کیونکہ یہ روایات دربارہ مہدی نہایت مختلف اور متضاد ہیں جن کی تطبیق میں شراح حدیث نہایت درجہ حیران ہیں اگر ہم ان روایات کو تسلیم بھی کریں تو اس کی تاویل یہی کریں گے کہ قرآن و حدیث میں اکثر جگہ پر مراد اسما سے وہ صفات ہوتی ہیں جو مدلول اسما ہیں نہ فقط اسماء مجرداز صفات کیونکہ اسم مجرد از صفت سے کیا کام چل سکتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جس قدر اسما ہیں وہ بھی سب صفاتی ہیں علیٰ ہذا القیاس خاتم الخلفاء کے اسما بھی صفاتی ہی ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے نام بھی سب صفاتی ہی ہیں کما قال اللہ تعالیٰ ولہ الاسماء الحسنٰی یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے سب اسماء یعنی سب صفات بہت اچھی ہیں اندریں صورت مطلب حدیث کا اگر صحیح ہوتو یہ ہے کہ اس کی صفت میری جیسی صفت ہوگی یعنی تمام کاروبار اُس کا علیٰ منہاج النبوۃ المحمدیہ واقع ہوگا اوراس کے باپ کی صفت میرے باپ کی سی صفت ہوگی یعنی جس طرح پر میرے باپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا معلوم نہیں تھا سو اُس کے باپ کو بھی اس کا مسیح موعود ہونا یاخاتم الخلفاء ہونے کا علم نہ ہوگا یا قبل اس دعوے کے اس کے ماں باپ فوت ہو جائیں گے اگر یہ مراد نہ لی جائے توصرف مواطاۃ اسم سے کیا نتیجہ حاصل