مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 452 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 452

المّ سے استنباط کیا ہے اورغلبہ نصاریٰ کی مدت ۴۹۷ وعن ذی مخبر قال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول ستصالحون الروم صلحا اٰمنا فتغزون انتم وھم عدو من ورائکم فتنصرون وتغنمون وتسلمون ثم ترجعون حتی تنزلوا بمرج ذی تلول فیرفع رجل من اہل النصرانیۃ الصلیب فیقول غلب الصلیب فیغضب رجل من المسلمین فیدقۃ فعند ذالک تغدر الروم و تجمع للملححہ وزاد بعضھم فیشور المسلمون الی اسلحتھم فیقتلون فیکرم اللّٰہ تلک العصابۃ بالشہادۃ رواہ ابو داؤد۔ترجمہ تشریحی۔اورروایت ہے ذی مخبر سے کہ خادم ہے حضرت کا اور بھتیجا ہے نجاشی کا کہا کہ سنا میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے نزدیک ہے کہ صلح کرو گے تم اے مسلمانو روم سے صلح باامن کہ طرفین فتنہ اورغدر سے نڈر ہوں گے پس جنگ کرو گے تم اے مسلمانو اور وہ رومی باہم متفق ہو کر دشمنوں سے کہ سوائے تمہارے ہیں پس نصرت کئے جائو گے تم یعنی مدد کرے گا تمہاری اللہ تعالیٰ ان پر اور غنیمت پائو گے اور سلامت رہو گے یعنی زخمی ہونے سے اور مارے جانے سے پھر پھروگے یعنی دشمنوں کے پاس سے یہاں تک کہ اُترو گے تم اور اہل روم ایک سبزہ کی جگہ کہ ٹیلے ہوں گے اس میں پس بلند کرے گا ایک شخص اہل نصرانیت سے چلیپاف مراد اہلِ نصرانیت سے روم ہیں اس لئے کہ روم دین نصرانیت پر تھی اور چلیپا ایک لکڑی مربع ہوتی ہے کہ گمان کرتے ہیں نصرانی کہ عیسیٰ اُس پر سوُلی دے کر قتل کئے گئے۔پس کہے گا وہ شخص کہ غالب آئی چلیپا یعنی غالب آئے ہم بسبب برکت چلیپا کے پس غصہ ہوگا ایک شخص مسلمانوں میں سے یعنی بسبب اس کے کہ نسبت کی غلبہ کی غیر اسلام کی طرف پس توڑ ڈالے گا وہ مسلمان چلیپا پس نزدیک اس قصہ کے عہد توڑیں گے رومی اورجمع کریں گے لوگوں کو جنگ کے لئے اور زیادہ کیا بعض راویوں نے اس عبارت کو کہ پس دوڑیں گے مسلمان طرف ہتھیاروں اپنے کے پس لڑیں گے مسلمان اُن سے پس بزرگی دے گا اللہ تعالیٰ اُس جماعت مسلمانوں کو ساتھ شہادت کے نقل کی یہ ابودائود نے ترجمہ مشکوٰۃ شریف۔اس حدیث کے ذیل میں حاشیہ کواکب درّیہ اردو میں لکھا ہے کہ حدیث ذی مخبر زبان زدخلائق ہے جس کا انتظار اہل اسلام کررہے ہیں