مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 451
گے مسلمان ساتھ مدد خداکے مددکرتاہے وہ جس کو چاہتا ہے اور وہی غالب ہے مہربان۔کیونکہ اس وقت میں بھی بسبب حصول فتح عظیم کے مومنین لشکر اسلام کو بڑی خوشی حاصل ہوئی کہ حضرت عمرؓ کے وقت میں ینصر اللّٰہ العزیز الرحیم روم فتح ہوئی اور تمام اہلِ اسلام کو بڑی خوشی اورفرحت حاصل ہوئی۔والحمد للّٰہ صدق اللّٰہ وللّٰہ الامر من قبل ومن بعدُ۔اس معنی کرکر حضرت عمر ؓ ایک ایسے مہدی ہوئے جن کے وقت میں ملک روم فتح ہوا اور تمام خزائن اُس ملک کے اُن کے قبضہ میں آگئے اور چونکہ جملہ خلفاء راشدین کی نسبت مہدی فرمایا گیا ہے۔چنانچہ حدیث صحیح میں ہے۔علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین من بعدی۔یعنی لازم پکڑو تم میری سنّت کو اور نیز سنّت میرے خلفاء کو جو راشد اورمہدی ہیں۔اس حدیث کے بموجب جو شخص خلیفہ راشد آنحضرت کا حامی اسلام ہواس کو بھی مہدی کہیں گے لہٰذا حضرت عمر بھی مہدی ہوئے اوراگر اس غالبی اورمغلوبی کی مدت کا علم بضع سنین میں محصور نہ رکھا جاوے جیسا کہ ان آیات کے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔۱؎ یعنی اسی غالبی اور مغلوبی روم کا وعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے نہیں خلاف کرتا اللہ وعدہ اپنا ولیکن اکثر لوگ اُس کا علم نہیں رکھتے یعنی بعض راسخون فی العلم کو اُس مدت کا علم حاصل ہو سکتا ہے جیسا کہ شیخ اکبر ؒ نے اعداد ابجد المّ سے استنباط کیا ہے اورغلبہ نصاریٰ کی مدت ۴۹۷ نکالی ہے اور مغلوب ہونے کی مدت ۵۸۳ برس تو اس قراء ت کے بموجب بضع سنین سے قطع نظر کرکر ایک اور غالبی مغلوبی روم کی مستنبط ہوتی ہے جس کی طرف حدیث ذی مخبر کی جو ابو دائود سے مشکوٰۃ شریف میں ہے دلالت کرتی ہے۔۱؎ الروم : ۷