مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 450 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 450

۔ ۱؎ یعنی جب کہ رومی غالب ہوں گے مسلمان اللہ کی مدد سے خوش ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ جس کی مدد چاہتا ہے کرتا ہے اور وہی زبردست رحم والا ہے۔چنانچہ نزول سورہ روم سے ہشت سال میں بایام جنگ بدر یہ دونوں پیشین گوئیاں اپنے پورے مضمون کے ساتھ پوری ہوئیں اور حضرت صدیق اکبر نے اپنی شرط کو فریق ثانی سے وصول کیا۔والحمدللہ۔دیکھو تفصیل اس کی کتب تفاسیر معتبرہ اور شروح احادیث میں۔دوسری قراء ت غَلَبَتْ بصیغہ معروف اور سَیُغْلَبُوْنَ بصیغہ مجہول آئی ہے چونکہ قراء ت غیرمتواترہ حکم حدیث صحیح کا رکھتی ہے اس لئے اس کے حکم کا ترک کرنا بھی جائزنہیں کیونکہ علم اصول کا قاعدہ ہے کہ اَ لْاَعْمَالُ خَیْرٌ مِّنَ الْاَھْمَالِ یعنی عمل کرنا ہی افضل ہے ترک کرنے سے پس پہلی قراء ت کے بموجب یہ دوسری پیشین گوئی ہوئی کہ روم نصاریٰ پھر ایک مدت میں جو المضاعف پہلی مدت سے ہے یعنی غالب ہونے کے زمانہ سے بضع سنین ہی ہے اہلِ اسلام کے ہاتھ سے مغلوب ہو جائے گی اور ہم نے اہلِ اسلام کی شرط اس واسطے لگائی ہے کہ تمام نصوصِ قرآنیہ اورتورات میں یہ نصرت اور فتح اہلِ اسلام کے لئے لکھی ہوئی ہے۔قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی  ۲؎ یعنی بیشک ہم لکھ چکے ہیں زبور میں بعد پندو نصیحت کے کہ تحقیق زمین مقدس کے وارث میرے نیک بندے ہو جائیں گے چنانچہ حضرت عمرؓ کے عہد خلافت ۱۶ھ میں روم نصاریٰ مسلمانوں کے قبضہ میں آگئی اوریہ زمانہ مغلوب ہونے روم کا اُس کے غالب ہونے سے وہی آٹھ سال ہوتے ہیں جو بضع سنین میں داخل ہیں اس صورت میں یہ آیت ذیل بھی بخوبی چسپاں ہوگئی۔لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَیَوْمَئِذٍ یَفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ بِنَصْرِاللّٰہِ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآئُ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ یعنی پہلے سب سے اوربعد سب کے حکم اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے اور اُس دن خوش ہوں ۱؎ الرّوم : ۵،۶ ۲؎ الانبیاء : ۱۰۶