مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 419 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 419

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑی مجلس میں میرے بارہ میں شہادت دی اور میری طرف وہ مکتوب تحریر کیا جوضمیمہ انجام آتھم میں آنمکرم کی نظر سے گزرا ہو گا۔لیکن ابھی اس عاجز کی جماعت اس تعداد کو نہیں پہنچی کہ جو میرے خدا نے مجھ پر منکشف فرمائی ہے۔میرا خیال ہے کہ اب تک میری جماعت آٹھ ہزارسے دو تین سو کم یا زیادہ ہو گی۔اے مخدوم و مکرم یہ سلسلہ خدا کا سلسلہ ہے اور اس قادر کے ہاتھوں اس کی بناء ہے کہ جو ہمیشہ کار ہائے عجائب دکھاتا ہے۔وہ اپنے کاروبار کے بارہ میں پوچھا نہیں جاتا کہ تو نے ایسا کیوں کیا۔وہ مالک ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اس کے خوف سے آسمان و زمین کانپتے ہیں اور اس کی ہیبت سے ملائکہ لرزاں ہوتے ہیں اور اس نے اپنے الہام میں میرا نام آدم رکھا اور فرمایا۔اَرَدْتُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ اس لئے کہ وہ جانتا تھا کہ میں بھی اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا کے اعتراض کا مورد بنوں گا۔پس جو کوئی مجھ کو قبول کرتا ہے وہ فرشتہ ہے نہ انسان اور جو سرکشی کرتا ہے ابلیس ہے نہ آدمی۔یہ قول خدا کا فرمودہ ہے نہ میرا۔پس ان لوگوں کو مبارک ہو جو مجھ سے محبت کرتے ہیں اور مجھ سے دشمنی نہیں رکھتے اور جنہوں نے مجھے اختیار کیا ہے اور مجھے تکلیف نہیں دیتے۔یہ ایسے لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی برکات نازل ہوں گی اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔آنمخدوم نے جو نقل مضمون جلسہ مذاہب طلب فرمایا تھا اس میں توقف کا سبب یہ ہوا کہ میں منتظر تھا کہ مضمون میں سے ایک مطبوعہ حصہ مجھے پہنچتا تا آپ کی خدمت میں بھجوائوں۔چنانچہ آج اس کا ایک حصہ پہنچا کہ آپ کی خدمت میں بھجوا رہا ہوں۔اسی طرح آئندہ بھی جس جس طرح پہنچے گا انشاء اللہ خدمت میں روانہ کروں گا۔اس مضمون کی مقبولیت اس سے ظاہر ہے کہ سرکاری اخبارات کہ جو ہر خبر سے کوئی سروکار نہیں رکھتے اور صرف وہ خبریں لکھتے ہیں کہ جو عظمت رکھتی ہیں۔اس مضمون کی تعریف اس رنگ میں کی ہے کہ حد اعجاز تک پہنچا دیا ہے۔چنانچہ سول ملٹری لکھتا ہے کہ جب یہ مضمون پڑھا گیا توتمام لوگوں پر محویت کا عالم طاری ہو گیا اور بالاتفاق لکھا کہ تمام مضامین پر یہی مضمون غالب رہا۔بلکہ لکھا کہ دیگر مضامین اس کے مقابل پر کچھ چیز نہ تھے۔پس یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس واقعہ سے پہلے ہی خدا نے اپنے کلام اور الہام سے مجھ کو اطلاع بخشی۔اور میں نے بھی پیش از وقت اس اعلامِ الٰہی کو بذریعہ اشتہار مشتہر کر دیا تھا۔پس اس واقعہ کی عظمت نُوْرٌ عَلٰی نُوْر ہو گئی۔فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔