مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 418 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 418

مکتوبات احمد ۴۱۸ جلد پنجم مجنون ہی قرار دو) کئی ہزار علماء وصلحاء میں سے آنمخدوم کے کلمات طیبات سے مجھے آشنائی کی خوشبو آئی ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ سرز میں ایسے مردانِ حق سے خالی نہیں جو کلمہ حق کے اظہار میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے ۔ اور اللہ تعالیٰ سے نور اور حضرت عزت سے دانائی رکھتے ہیں۔ پس ان کی پاک فطرت صحیحہ ان کو حق کی طرف کھینچے رکھتی ہے اور اثبات حق میں روح القدس ان کی تائید فرماتی ہے۔ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلهِ کہ ان امور کا مصداق ہم نے آنمخدوم کو پایا ہے۔ اے برادر مکرم مشائخ وقت کا اس عاجز کی طرف رجوع بہت کم ہے۔ اور ہر طرف فتنے برپا ہیں۔ اس سے قبل حبي في الله حاجی منشی احمد جان صاحب لدھیانوی کہ جو کتاب طب روحانی کے مؤلف ہیں نے بکمال محبت و اخلاص اس عاجز سے مریدی کا تعلق قائم کر لیا ہے۔ اور بعض نا اہل مریدوں نے ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بنائیں کہ اتنی بڑی بزرگی اور شہرت رکھنے والا کہاں جا پڑا ۔ جب ان کی ان باتوں کی اُن ( حضرت منشی احمد جان ) کو اطلاع ہوئی تو آپ نے اپنے معتقدوں کو ایک مجلس میں اکٹھا کیا اور فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے وہ چیز (حقیقت) دیکھی ہے جو تم نہیں دیکھتے ہو۔ پس اگر آپ مجھ سے قطع تعلق چاہتے ہو تو بہت اچھا۔ مجھے خودان تعلقات کی پرواہ نہیں ہے۔ اُن کی ان باتوں سے بعض اہلِ دل مرید رو پڑے۔ اور ایسا اخلاص پیدا کیا جو اس سے پہلے وہ نہ رکھتے تھے۔ اور مجھ سے ملاقات کے وقت بتایا کہ میرے ساتھ یہ عجیب معاملہ پیش آیا ہے کہ میں نے پختہ ارادہ کیا تھا کہ اگر وہ مجھ کو چھوڑتے ہیں تو میں بھی ان کو ترک کر دوں گا۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس ظاہر ہوا کہ انہوں نے قسم کھائی کہ اب وہ ایسی خدمات کے ساتھ آئیں گے کہ اس سے پہلے جن کا نشان نہیں تھا۔ اس بزرگ مرحوم نے مراجعت حج کے بعد وفات پائی۔ انہوں نے اپنے اعزاء اور وابستگان کو بار بار یہی نصیحت فرمائی کہ اس عاجز کے ساتھ مریدی کا تعلق رکھے رہیں گے اور حج کے ارادہ کے وقت مجھے لکھا کہ مجھے بڑی حسرت ہے کہ میں نے آپ کے زمانہ سے بہت ہی کم وقت پایا اور عمر ادھر اُدھر کے کاموں میں ضائع ہو گئی اور اولاد اور تمام مرد اور عورتیں کہ جوان کے اعزاء تھے نے ان کی وصیت پر عمل کیا اور خود اس عاجز کے سلسلہ بیعت سے منسلک ہو گئے۔ چنانچہ لمبے عرصہ سے اس بزرگ کی اولاد نے لدھیانہ سے ترک سکونت کر لی ہے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ میرے پاس قادیان میں رہ رہے ہیں ۔ اور ایک اور بزرگ صاحب علم ہیں جنہوں نے میری نسبت خواب میں دیکھا کہ