مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 33

مکتوبات احمد ۳۳ جلد پنجم کے باقاعدہ مبلغ کے طور پر آپ نے خلافتِ اولی کے زمانے میں کام کام شروع کیا اور پھر قریباً نصف شر صدی تک ایسے ایسے عظیم الشان تبلی ے عظیم الشان تبلیغی کارنامے سرانجام د سرانجام دیئے کہ جو رہتی دنیا تک یادگار رہیں گے۔ آپ نے اپنے تبلیغی تجارب اور زندگی میں پیش آنے والے غیر معمولی واقعات کے والے غیر معمولی واقعات کو اپنی معرکۃ الآراء تصنیف ”حیات قدسی“ میں محفوظ فرما دیا ہے۔ آپ نے اپنی زندگی میں آریوں، عیسائیوں اور غیر از جماعت علماء سے صدہا نہایت درجہ کامیاب مناظرے کئے ۔ ہزاروں کی تعداد میں معرکۃ الآراء لیکچر دیئے۔ اُردو اور عربی میں نہایت اہم علمی موضوعات پر بے شمار قیمتی مضامین رقم فرمائے جو سلسلہ کے جرائد و رسائل اور اخبارات میں شائع ہوئے۔ آپ کی عربی دانی نہ صرف جماعت میں بلکہ جماعت سے باہر بھی غیر از جماعت اہل علم حضرات کے نزدیک مسلم تھی ۔ آپ کے عربی قصائد منقوطہ و غیر منقوطم نے آپ کی عربی دائی اور علم لدنی کا سب سے لوہا منوا لیا تھا۔ آپ کے آقا سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے جن کے فیض صحبت سے آنے بہت کچھ پایا اور آپ کے علم وعرفان کو جلاء نصیب ہوئی ۔ ۱۸ نومبر ۱۹۴۰ء کو خطبہ جمعہ میں آپ کے علم وفضل اور تبحر علمی کا ذکر کرتے ہوئے آپ کو حسب ذیل سند قبولیت عطا فرمائی کہ میں سمجھتا ہوں کہ مولوی غلام رسول صاحب راجیکی کا اللہ تعالیٰ نے جو بحر کھولا وہ بھی زیادہ تر اسی زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔ پہلے ان کی علمی حالت ایسی نہیں تھی مگر بعد میں جیسے یک دم کسی کو پستی سے اُٹھا کر بلندی تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے ان کو قبولیت عطا فرمائی اور ان کے علم میں ایسی وسعت پیدا کر دی کہ صوفی مزاج لوگوں میں ان کی تقریر بہت ہی دلچسپ، دلوں پر اثر کرنے والی اور شبہات اور وساوس کو دور کرنے والی ہوتی ہے ۔“ سید نا حضرت خلیفة المسیح الثانی نے فروری ۱۹۵۷ء میں آپ کو صدرانجمن احمد با یہ پاکستان کا مستقل ممبر مقرر فرمایا چنانچہ اس وقت سے آپ صدرا انجمن احمد یہ کے ممبر چلے آ رہے تھے۔ علاوہ ازیں آپ افتاء کمیٹی کے بھی رکن تھے ۔ مورخه ۱۵ دسمبر ۱۹۶۳ء کو اچانک سینہ میں درد محسوس ہوا اور اس کے چند منٹ بعد آپ ☆ مولائے حقیقی سے جاملے ۔ تاریخ احمد بیت جلد ۲۲ صفحه ۷ ۲۷ تا ۲۷۹