مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 396
مکتوبات احمد ۳۹۶ جلد پنجم چنانچہ ہندو چیچک کے وقت چیچک کی پوجا کرتے ہیں اور عرب بارش کو ستاروں کی طرف منسوب کرتے تھے کہ فلاں ستارے نے ہم پر بارش برسائی ۔ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عام بت پرستیوں اور تو ہمات کی بیخ کنی کے واسطے مبعوث ہوئے تھے۔ اس واسطے آپ نے ہر بات میں توحید کا سبق دیا اور اس معاملہ میں لوگوں کے اس اعتقاد کو اُڑایا کہ بیماریاں خود بخود آتی ہیں اورخود بخود چلی جاتی ہیں اور ان کو سکھا یا کہ عدوی اور هَامَةَ کچھ چیز نہیں ۔ سب اشیاء خدا کی خادم ہیں اور بغیر اس کے حکم کے نہ کوئی بیماری بڑھ سکتی ہے اور نہ اور کوئی دکھ یا تکلیف کسی کے نزدیک آ سکتا ہے۔ یہ ایک خالص تو حید تھی جس کی طرف آنحضرت نے قوم کو توجہ دلائی ورنہ اس سے یہ منشاء ہرگز نہیں کہ اشیاء کے طبعی خواص کا انکار کیا جائے ۔ کیونکہ عدوی کے متعلق خود جذامی سے بھاگنے کی حدیث موجود ہے اور هامة کے متعلق ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک دفعہ حضرت رسول کریم نے حضرت حسن و حسین کو دعا دیتے ہوئے فرمایا کہ أُعِيذُ كُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَةٍ اس سے ظاہر ہے کہ اگر هامة دراصل کوئی شے نہیں تو پھر اس سے خدا کی پناہ مانگنا کیا معنے رکھ سکتا ہے۔ اور دنیا کے تجربہ و مشاہدہ سے بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہر حالت میں ہمیشہ طاعون یا کوئی اور بیماری اپنے خواص متعدی ہونے کے ظاہر نہیں کرتی ۔ گزشتہ سال میں بہت سے شہروں میں کئی لوگوں نے بوجہ ہمدردی کے یا بوجہ معقول مزدوری کے لالچ کے یہ پیشہ اختیار کیا تھا کہ طاعونی مردوں کو کوٹھڑیوں میں سے اٹھا کر باہر لے جاتے اور دفن کرتے یا جلاتے اور باوجود ایسے متعفن مکانات میں داخل ہونے کے اور اپنے ہاتھ سے مُردوں کو اٹھانے اور اتنی دور لے جانے کے وہ سب صحیح و سلامت رہے اور کچھ اثر اُن پر نہ ہوا۔ اور ایسا ہی کئی لوگ اپنے عزیز مریضوں کی خدمت میں برابر مصروف رہے اور بسا اوقات وہ مریض مر بھی گیا اور متوفی کے کپڑے وغیرہ بھی پس ماندوں نے استعمال کئے مگر اُن کو خدا نے بچالیا۔ پس یہ صحیح نہ ہوگا کہ یہ قاعدہ کلیہ بنایا جائے کہ طاعون کی مرض ایسی متعدی ہے اور اس کی یہ خاصیت ایسی طاقتور ہے کہ ہرگز نہیں ملتی ایسا خیال انسان کو رفتہ رفتہ توحید سے باہر نکال لے جاتا ہے۔ اصل بات وہی ا بخاری کتاب احاديث الانبياء