مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 395
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی اخویم جناب ڈاکٹر رستم علی خان صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا خط مورخہ ۹؍جولائی ۱۹۰۴ء حضور اقدس مسیح موعود کی خدمت میں پہنچا۔جس میںآپ نے یہ دریافت کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لَاعَدْوَی وَلَاھَامَۃَ الخ اور آج کل تجربہ سے ثابت ہوا ہے کہ مرض طاعون متعدی ہے اورحدیث سے ثابت ہے کہ طاعون سے بھی بھاگنا گناہ ہے۔لیکن فی زمانہ طاعونی جگہ سے نکل کر باہر رہنا مفید پایا گیا ہے۔اورایسا ہی آپ نے دریافت کیا ہے کہ طاعون کی جگہ کو چھوڑنے کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کیا حکم تھا اور گائوں سے نکل کر کھلے میدان میں جانا کس آیت یا حدیث سے ثابت ہے۔ان سوالات کے جواب میں حسب الحکم حضرت اقدس مہدی معہود علیہ السلام آپ کو تحریر کیا جاتا ہے کہ حدیث شریف لَاعَدْوَی وَلَاھَامَۃَ صحیح ہے مگر اس حدیث کو دیگر احادیث کے ساتھ جو اسی بارے میں آنحضرتؐ سے مروی ہیں ملا کر پڑھنا چاہئے۔چنانچہ ایک حدیث میں وارد ہے کہ فِرَّ مِنَ الْمَجْذُوْمِ فَرَارَکَ مِنَ الْاَسَدِ ۱؎ یعنی کوڑہی سے ایسا بھاگ جیساکہ شیر سے بھاگنا ہے۔پس اگر۔اوّل الذّکر حدیث سے یہ ثابت ہوتاہے کہ کوئی مرض متعدی نہیں تو دوسری سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امراض متعدی بھی ہوا کرتی ہیں اور رسول اللہ کے کلام میں تناقض نہیں ہوتا۔پس اصل بات یہ ہے کہ حکمت اور طبابت کے رنگ میں جو خواص اشیاء میں ہیں ان کا ابطال آنحضرتؐ نے نہیں کیا۔بلکہ لَاعَدْوَی وَلَاھَامَۃَ فرمانے سے آپ کا یہ منشاء ہے کہ بغیر اذنِ الٰہی کے کوئی شیٔ کسی کو ضرر نہیں پہنچا سکتی۔اصل بات یہ ہے کہ ہمیشہ مشرکین کا یہ طریق رہا ہے کہ وہ بسبب بت پرستی کے توہمات میں بہت غرق ہوتے ہیں اور ہر ایک خوشی یارنج کو خداکے سوائے کسی دیوی دیوتا یا کسی درخت یا پرندہ یا کسی اور مادی چیز کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اسی کی پرستش کرتے ہیں۔۱؎ مسند احمد بن حنبل مسند المکثرین من الصحابہ مسند جابر بن عبد اللہ