مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 393
مکتوبات احمد ۳۹۳ جلد پنجم حضرت سلیمان کو ملا بھائیوں کو نہیں ملا۔ پس یہ آیت تو اہل سنت کے مفید ہے نہ شیعہ کے کیونکہ اس آیت سے صاف پایا جاتا ہے کہ دوسرے بھائی ان چیزوں کے وارث نہیں ہوئے جن کا سلیمان وارث ہوا اسی طرح تو رات سے ثابت ہوتا ہے کہ موسیٰ اپنے باپ کا وارث نہ ہوا اور نہ موسیٰ کا بیٹا اس کا وارث ہوا۔ ایسا ہی انجیل سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح جن کے چار بھائی اور تھے یعنی یعقوب وغیرہ یہی بھائی حضرت مریم کے وارث ہوئے اور حضرت مسیح نے صاف لفظوں میں وراثت سے دست برداری ظاہر کی پھر دیکھیئے کہ یہ حدیث لَا نُورَتْ وَمَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدقَةٌ جو حضرت رت ابو ابو بکر نے سنائی ہے اس کی ہم مضمون کلینی میں ایک حدیث حد : موجود ہے اور کلینی شیعوں میں وہ کتاب ہے جو اس کی شان میں لکھا ہے کہ مہدی موعود صاحب الزمان نے اس کی تصدیق کر دی ہے گویا صاحب کلینی نے یہ کتاب اُن کو دکھلا دی اور انہوں نے اس کی صحت کو تصدیق کیا ۔ پھر جبکہ ایسی مقدس کتاب میں یہ لکھا ہوا ہے کہ جو حدیث قرآن کے مخالف ہو وہ رڈی ہے اور نیز یہ کہ وراثت دنیا کا مال نہیں ہوتی ۔ یہ فیصلہ شیعوں کے اقرار سے ہو گیا۔ باقی رہا یہ وہم کہ حضرت فاطمہؓ نے کیوں دعوی کیا اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت فاطمہ کو فدک سے کچھ ملتا ہو گا اور شائد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجمل طور پر کچھ فرمایا ہو گا سو بشریت سے حضرت فاطمہ کے اجتہاد میں غلطی ہوئی کہ انہوں نے کہہ دیا کہ یہ سب میرا مال ہے اور قابل تقسیم ہے ۔ علاوہ اس کے اس آثار کے لفظ محفوظ نہیں خدا جانے حضرت فاطمہ نے کیا کہا اور راوی نے کیا باور کیا۔ قرآن شریف مقدم ہے اور اگر حضرت فاطمہ جناب الصدیق رضی اللہ عنہ سے آزردہ ہو ئیں تو کچھ بات نہیں ۔ جب وہ خود غلطی پر تھیں تو ان کی آزردگی کچھ چیز نہیں ہے ۔ حضرت ابو بکر خلیفہ اللہ تھے ۔ ان کا حکم خدا کا حکم تھا ۔ والسلام خاکسار غلام احمد الحکم نمبر ۳۷ جلد ۷ مورخه ۱۰ راکتو بر ۱۹۰۳ء صفحه ۱۳