مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 392
افسوس آپ کو پیشگوئیوں کا حال معلوم نہیں وہ تو درحقیقت پوری ہو چکی ہیں مگر آپ نے کتابیں نہیں دیکھی ہیں۔میں آپ پر یہ الزام نہیں لگاتا کہ آپ نے عمداً حق سے گریز کی ہے خدا تعالیٰ ہر مومن کو اس بیجا حرکت سے محفوظ رکھے مگر بیشک آپ پر یہ الزام ہے کہ آپ نے باوجود بے خبری کے جلدی رائے ظاہر کردی۔مومن کی یہ شان ہونی چاہئے کہ وہ جلدی نہ کرے اور فدک کی بابت جو آپ کو گھبراہٹ ہے میں اس میں تعجب ہی کرتا ہوں کہ یہ گھبراہٹ کیوں ہے۔علماء کے اتفاق سے باغ فدک غنیمت کی اس قسم سے تھا جس کو فَيْکہتے ہیں چنانچہ علمائے شیعہ بھی اس کے قائل ہیں اور قرآن کریم کی نصّ صریح سے ثابت ہوتاہے کہ فَيْمیں نہ ہبہ ہو سکتا ہے اور نہ تقسیم ہو سکتی ہے۔اس صورت میں اگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فدک کادعویٰ کیا تو حضرت فاطمہؓ کی غلطی ہے۔قرآن شریف فرماتا ہے کہ فَيْ ایک مشترک چیز ہے۔جس میں مہاجرین، ابن السبیل اور ذوالقربیٰ وغیرہ سب داخل ہیں۔پھر وہ حضرت فاطمہؓ کو کیونکر دیا جاتا چنانچہ یہی مقدمہ حضرت عمرؓ کی خلافت کے وقت حضرت علیؓ و حضرت عباس نے حضرت عمرؓ کے سامنے پیش کیا تھا اور ہر ایک نے اپنے حق کا دعویٰ کیا تو حضرت عمرؓ نے ان کے حوالہ اس شرط سے کر دیا کہ وہ اس کے متولیّ ہو کر وہ تمام حقوق ادا کریں جو قرآن شریف میں درج ہیں اور انہوں نے تقسیم کی درخواست کی تو وہ نامنظور ہوئی۔حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓ کے سامنے ذکر کیا کہ باغ فدک آنحضرتؐ نے حضرت فاطمہؓ کو ہبہ کردیا تھا مگر حضرت عباسؓ نے اس بیان کی تکذیب کی اور اس کی صحت سے انکار کیا۔غرض فَيْمیں نہ تقسیم ہوتی ہے نہ ہبہ ہوتا ہے۔قرآن شریف کے اگر کوئی معارض حدیث ہو تووہ ترک کرنے کے لائق ہے۔شیعوں کی معتبر کتاب کلینی میں لکھا ہے اگر کوئی حدیث قرآن کے مخالف ہو تو وہ قبول کرنے کے لائق نہیں اور آپ کی یہ کس قدر غلطی ہے کہ آپ خیال کرتے ہیں کہ سلیمان داؤد کا وارث ہوا۔آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت داؤد ؑ کے انیس بیٹے تھے۔پس اگر یہ مال کے وارث ہیں تو سلیمان کی تخصیص سے معنے فاسد ہوتے ہیں۔اس لئے آیت کے معنے یہ ہیں کہ داؤد کی نبوت دائود کی بادشاہی دائود کا علم