مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 32

حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکیؓ ولادت۔اگست۔ستمبر ۱۸۷۸ء (بمطابق وصیت فارم۔آپ کی تالیف حیات قدسی جلد ۱صفحہ ۶سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ولادت بھادوں کے مہینہ میں ہوئی۔ہندی کیلنڈر کی رُو سے یہ اگستیا ستمبر کے ایام تھے۔بیعت تحریری ستمبر یا اکتوبر ۱۸۹۷ء (حیات قدسی جلد ۱صفحہ۱۹)۔زیارت ۱۸۹۹ء (حیات قدسی جلد ۳صفحہ ۶) وفات ۱۵دسمبر ۱۹۶۳ء (الفضل ۱۷ دسمبر ۱۹۶۳ء صفحہ ۱ ) حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ممتاز صحابی، سلسلہ عالیہ احمدیہ کے جید و متبحر عالم ، صاحب رئویاو کشوف اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔آپ موضع راجیکی ضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کی پیدائش سے قبل خواب میںدیکھا تھا کہ گھر میں ایک چراغ روشن ہے جس کی روشنی سے سارا گھر جگمگا اٹھا ہے۔آپ نے ۱۸۹۷ء میں بذریعہ خط بیعت کی اور اس کے دوسال بعد ۱۸۹۹ء میں قادیان حاضر ہو کر دستی بیعت کا شرف حاصل کیا۔بیعت کے بعد علی الخصوص آپ کے علم وعرفان اور تعلق باللہ میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی برکت بخشی اور آپ کو روحانی نعماء سے اس قدر حصہ وافر عطا کیا کہ آپ آسمانِ روحانیت کا ایک درخشندہ ستارہ بن کر نصف صدی سے زائد عرصے تک بھٹکے ہوئوں کو راہِ راست پر لانے کا وسیلہ بنے رہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم و عرفان کے ساتھ ساتھ الہام اور رئویاوکشوف کی نعمت سے نہایت درجہ حصہ عطا فرمایا تھا اور خدمتِ سلسلہ کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت غیر معمولی رنگ میں عطا فرمائی تھی۔یوں تو آپ سلسلۂ بیعت میں داخل ہونے کے بعد شروع ہی سے تبلیغ حق میں بے انتہا سرگرم واقع ہوئے تھے اور آپ کی زندگی ہمہ وقت میدانِ تبلیغ میں ہی بسر ہو رہی تھی۔لیکن سلسلہ عالیہ احمدیہ