مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 32
مکتوبات احمد ۳۲ جلد: حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی ولادت ۔ اگست ستمبر ۱۸۷۸ء (بمطابق وصیت فا فارم ۔ آپ کی تالیف حیات قدسی جلد اصفحہ ۶ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ولادت بھادوں کے مہینہ میں ہوئی ۔ ہندی کیلنڈر کی رُو سے یہ اگست یا ستمبر کے ایام تھے ۔ بیعت تحریری ستمبر یا اکتوبر ۱۸۹۷ء ( حیات قدسی جلد اصفحہ ۱۹) ۔ زیارت ۱۸۹۹ء ( حیات قدسی جلد ۳ صفحه ۶ ) وفات ۱۵ دسمبر ۱۹۶۳ء ( الفضل ۱۷ دسمبر ۱۹۶۳ ء صفحہ ۱) حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ممتاز صحابی ، سلسلہ عالیہ احمد یہ کے جید و متبحر عالم ، صاحب رؤیا و کشوف اور مستجاب ) الدعوات بزرگ تھے ۔ آپ موضع را جیکی ضلع گجرات کے رہنے والے تھے ۔ آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کی پیدائش سے قبل خواب میں دیکھا تھا کہ گھر میں ایک چراغ روشن ہے جس کی روشنی سے سارا گھر جگمگا اٹھا ہے۔ آپ نے ۱۸۹۷ء میں بذریعہ خط بیعت کی اور اس کے دوسال بعد ۱۸۹۹ء میں قادیان حاضر ہو کر دستی بیعت کا شرف حاصل کیا۔ بیعت کے بعد علی الخصوص آپ کے علم و عرفان اور تعلق باللہ میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی برکت بخشی اور آپ کو روحانی نعماء سے اس قدر حصہ وافر عطا کیا کہ آپ آسمان روحانیت کا ایک درخشندہ ستارہ بن کر نصف صدی سے زائد عرصے تک بھٹکے ہوؤں کو راہِ راست پر لانے کا وسیلہ بنے رہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم و عرفان کے ساتھ ساتھ الہام اور رویا و کشوف کی نعمت سے نہایت درجہ حصہ عطا فر مایا تھا اور خدمت سلسلہ کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت غیر معمولی رنگ میں عطا فرمائی تھی ۔ یوں تو آپ سلسلۂ بیعت میں داخل ہونے کے بعد شروع ہی سے تبلیغ حق میں بے انتہا سرگرم واقع ہوئے تھے اور آپ کی زندگی ہمہ وقت میدان تبلیغ میں ہی بسر ہو رہی تھی۔ لیکن سلسلہ عالیہ احمد یہ