مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 390
مکتوب بنام میاں حسن نظامی صاحب۔دہلی جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام دہلی میں خواجہ شیخ نظام الدین صاحب علیہ الرحمۃ کے مزار مبارک پرتشریف لے گئے تو وہاں کے سجادہ نشینوں میں سے میاں حسن نظامی صاحب نے نہایت محبت سے ساتھ ہو کر تمام مقامات دکھائے۔اور ہر مقام کے تاریخی حالات عرض کئے اور بالآخر اپنے خاص حجرے میں بھی حضرت اورخدام کو لے گئے اور ایک کتاب بنام شواہد نظامی پیشکش کی اور حضرت کے وہاں جانے سے پیشتر مکان پر آکر یہ بھی عرض کی تھی کہ آپ جب وہاں آئیں تو بمعہ اصحاب میری دعوت قبول فرمائیں۔میاں حسن نظامی صاحب حضرت کی روانگی کے وقت اسٹیشن پر بھی موجود تھے۔اور ان کے زبانی اصرار اورتحریری درخواست کے جواب میں جو یہاں بذریعہ ڈاک قادیان پہنچی ہے۔حضرت نے اپنے وہاں جانے کے متعلق ایک تحریر ان کو بھیجی ہے جو ذیل میں درج کی جاتی ہے۔بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ وَ آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَجَمِیْعِ عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ۔اما بعد شعبان المبارک ۱۳۲۳ھ میں مجھے جب دہلی جانے کا اتفاق ہوا تو مجھے ان صلحاء اور اولیاء الرحمن کے مزاروں کی زیارت کا شوق پیداہوا۔جو خاک میں سوئے ہوئے ہیں کیونکہ جب مجھے دہلی والوں سے محبت اورانس محسوس نہ ہوئی۔تومیرے دل نے اس بات کے لئے جوش مارا کہ وہ ارباب صدق و صفاء اور عاشقان حضرت مولیٰ جو میری طرح اس زمین کے باشندوں سے بہت ساجوروجفا دیکھ کر اپنے محبوب حقیقی کو جا ملے۔ان کی متبرک مزاروں کی زیارت سے اپنے دل کو خوش کر لوں پس میں اسی نیت سے حضرت خواجہ شیخ نظام الدین ولی اللہ رضی اللہ عنہ کے مزار متبرک پر گیا۔اور ایسا ہی دوسرے چندمشائخ کے متبرک مزاروںپر بھی۔خداہم سب کو اپنی رحمت سے معمور کرے۔آمین ثم آمین۔الراقم ٭ ۱۲؍نومبر ۱۹۰۵ء عبداللہ الصمد غلام احمد المسیح الموعود من اللہ الاحد القادیانی ٭ بدر نمبر۳۷ جلد۱ مورخہ ۲۴؍نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۳