مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 371

ترجمہ از ناشر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ بخدمت اخویم مولوی احمد الدین صاحب سلّمہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ مخلصانہ عنایت نامہ موصول ہوا۔واضح ہو کہ رحمت الٰہی کے دروازہ کا کھلنے کا ایک ہی طریق نہیں۔کسی پر روزہ و نماز سے کھلتا ہے اور کسی پر صدقہ و خیرات یا کسی اور عمل سے راستہ پاتے ہیں۔غرض حضرت احدیت کے حضور قبولیت کے وسائل مختلف ہوتے ہیں۔اور یہ احقر دین کی تائید اور شیاطین کے مذاہب کے قلع و قمع پر مامور ہے۔اس کام اور خدمت میں لذت اور کشائش حاصل ہوتی ہے اور اسی سیرت کو دوسرے لوگوں میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں اور کوتہ بین زاہد صرف اپنی گدڑی سے سروکار رکھتے ہیں اور ضلالت اور معصیت میں غرق شدہ لوگوں سے بکلّی اپنے ہاتھ کھینچنے والے ہوتے ہیں جس طرح انبیاء خدا کے بندوں کی تعلیم میں مشغول ہو جاتے ہیں اور کلمہ ٔ ۱سلام کی بلندی کے لئے جان ، مال، عزت اور آسائش کو فدا کرتے ہیں۔موجودہ زمانہ کے حالات یہی سب سے بڑی عبادت ہے۔اپنی فکر میں مبتلا ہونا اور اپنے بھائی سے ناراض رہنا نامردی اور نااہلی ہے۔پس ہمارا مذہب یہی ہے اور ہم اسی پر مامور ہیں اور ہر ایک شخص ہمارے راستے پر قدم مارتا ہے اور اشتیاق رکھا ہے اس پر یہ بات مخفی نہیں ہو گی کہ ہمارے سپرد یہ خدمت ہے کہ دین متین کے مخالفین سے ہم مناظرہ و مجادلہ کریں اور ان پر حجتِ الٰہی کا اتمام کریں اور جو شخص یہ سیرت اور خصلت نہیں رکھتا وہ خواہ عابد و زاہد گوشہ نشین یا چلہّ کش کیوں نہ ہو وہ ہمارے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتا وہ ہم میں سے نہیں اور ہرگروہ کے پاس جو کچھ ہے اس پر خوش ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی مدد کرتا ہے اللہ بھی اسی کی مدد فرماتا ہے۔خاکسار مرزا غلام احمد