مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 29
مکتوبات احمد ۲۹ جلد مکتوب السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ اعْلَمُوا أَنَّ الْأَقْوَالَ الَّتِي نُسِبَتْ إِلى يَزِيدَ لَا أَعْلَمُ بِالْيَقِينِ أَنَّهَا كَيْفَ وَقَعَتْ وَالْأَخْبَارُ مُخْتَلِفَةٌ وَالرِّوَايَاتُ كَثِيرَةٌ فَمِنَ التَّقْوى أَنْ لَّا يَلْتَفِتَ الْإِنْسَانُ إِلَى لَعْنِ الْآخِرِينَ وَيَخْشَى عَلَى فِسْقِ نَفْسِهِ وَ يُجَاهِدَ لِتَزْكِيَتِهَا فَإِنَّ فِرْقَ يَزِيدَ لَا يَضُرُّكُمْ فَإِنْ “ كَانَ السَّبُّ الشَّرَّ فَعَلَيْهِ " يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ لِكُلِّ عُضُرٍ مِّنْ أَعْضَاءِ الْإِنْسَانِ سِيْرَةُ خَيْرٍ يَدْعُو اللَّهُ إِلَيْهَا فَلِلْإِنْسَانِ الْكَفُّ أَحْسَنُ السِّيَرِ۔ وَالسَّلَامُ ترجمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ غلام احمد عفى الله عنه) واضح ہو جن افعال کی نسبت یزید کی طرف منسوب کی جاتی ہے۔ مجھے یقیناً معلوم نہیں کہ وہ کس طرح واقع ہوئے ۔ اس امر میں خبریں مختلف اور روائتیں بہت ہیں ۔ تقویٰ کی یہ شرط ہے کہ انسان دوسروں کی لعنت کی طرف التفات نہ کرے ( بلکہ ) اپنے ہی نفس کے فسق سے ڈرتا رہے اور اس کی تزکیہ و تصفیہ میں کوشش کرے۔ کیونکہ یزید کا گناہ تم کو کچھ ضرر نہیں دیتا ۔ اگر اس کی شرارت تھی تو اس کا وبال یزید پر ہی پڑے گا لقولہ تعالیٰ ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ لا یعنی اے ایمان والوں اگر تم خود ہدایت یافتہ ہو گئے تو گمراہ آدمی تم کو ضر ر نہیں پہنچا سکتا ۔ انسان کے ہر اندام میں خدا تعالیٰ نے نیک سیرت کی خاصیت رکھی ہے جس کے اظہار کے لئے خدا تعالیٰ انسان کو مدعو کرتا ہے۔ پس انسان کی زبان کی نیک سیرتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کو بد گوئی سے روکے کی والسلام ا المائدة : ١٠٦ الحکم نمبر ۴۰ جلد ۸ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۰۴ء صفحه ۱۳ ( غلام احمد علی اللہ عنہ )