مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 29

مکتوب اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ اِعْلَمُوْا اَنَّ الْاَقْوَالَ الَّتِیْ نُسِبَتْ اِلٰی یَزِیْدَ لَااَعْلَمُ بِالْیَقِیْنِ اَنَّھَا کَیْفَ وَقَعَتْ وَالْاَخْبَارُ مُخْتَلِفَۃٌ وَ الرِّوَایَاتُ کَثِیْرَۃٌ فَمِنَ التَّقْوٰی اَنْ لَّایَلْتَفِتَ الْاِنْسَانُ اِلٰی لَعْنِ الْاٰخِرِیْنَ وَ یَخْشٰی عَلٰی فِسْقِ نَفْسِہٖ وَ یُجَاھِدَ لِتَزْکِیَتِھَا فَاِنَّ فِسْقَ یَزِیْدَ لَایَضُرُّکُمْ فَاِنْ کَانَ السَّبُّ الشَّرَّ فَعَلَیْہِ ’’ یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَایَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ۔‘‘ لِکُلِّ عُضْوٍ مِّنْ اَعْضَآئِ الْاِنْسَانِ سِیْرَۃُ خَیْرٍ یَدْعُو اللّٰہُ اِلَیْھَا فَلِلْاِنْسَانِ الْکَفُّ أَحْسَنُ السِّیَرِ۔وَالسَّلَامُ (غلام احمد عفی اللہ عنہ) ترجمہ۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ واضح ہو جن افعال کی نسبت یزید کی طرف منسوب کی جاتی ہے۔مجھے یقینا معلوم نہیں کہ وہ کس طرح واقع ہوئے۔اس امر میں خبریں مختلف اور روائتیں بہت ہیں۔تقویٰ کی یہ شرط ہے کہ انسان دوسروں کی لعنت کی طرف التفات نہ کرے (بلکہ) اپنے ہی نفس کے فسق سے ڈرتا رہے اور اس کی تزکیہ و تصفیہ میں کوشش کرے۔کیونکہ یزید کا گناہ تم کو کچھ ضرر نہیں دیتا۔اگر اس کی شرارت تھی تو اس کا وبال یزید پر ہی پڑ ے گا لقولہ تعالیٰ۔یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَایَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ۔۱؎ یعنی اے ایمان والوں اگر تم خود ہدایت یافتہ ہو گئے تو گمراہ آدمی تم کو ضرر نہیں پہنچا سکتا۔انسان کے ہر اندام میں خدا تعالیٰ نے نیک سیرت کی خاصیت رکھی ہے جس کے اظہار کے لئے خدا تعالیٰ انسان کو مدعو کرتا ہے۔پس انسان کی زبان کی نیک سیرتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کو بدگوئی سے روکے۔٭ والسلام (غلام احمد عفی اللہ عنہ) ۱؎ المائدۃ : ۱۰۶ ٭ الحکم نمبر۴۰ جلد ۸ مورخہ ۲۴؍نومبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۳