مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 355 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 355

مکتوب نمبر۱ژ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس وقت دو طرف کے خیال نے مجھ کو تردّد میں ڈال رکھا ہے ایک یہ کہ اصل غرض اس قدر روپیہ خرچ کرنے سے یہ ہے کہ اس مدرسہ کے ذریعہ سے لوگوں پر کامل اثر پڑے اور ان میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں جو علم دین میں پختہ ہو کر لائق تبلیغ اور وعظ ہوں اور یہ امر تب میسر ہو سکتا ہے کہ علم دین کو سب پر مقدم رکھا جائے اور اپنے پر زور ڈالا جائے۔دوسرے یہ امر حیران کر رہاہے کہ اگر اس مدرسہ کی بکلی صورت بدل دی جائے تو وہ لوگ جو محض دنیا کی لیاقت حاصل کرانے کے لئے اپنے بچے اس مدرسہ میں بھیجتے ہیں وہ بھیجنا ترک کردیں گے۔اوراس طرح سے جو تھوڑا بہت اثر ان لڑکوں پر ہوتا ہے وہ بھی نہیں ہوگا اور سرِدست مدرسہ میں بے رونقی بھی ہوگی۔بالفعل کوئی ایسا طریق چاہئے کہ غرض اصلی بھی حاصل ہو اور یہ مدرسہ عام اثر پر بھی خالی نہ رہے۔پس اگر تعطیلات کے دنوں میں جو اکثر مہمان آئیں گے ان کے سامنے بھی یہ مشکلات پیش کئے جائیں اورا ن کی بھی رائے لی جائے تو کچھ حرج نہیں شائد کوئی بہتر طریق نکل آوے۔مرزا غلام احمد