مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 354
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سیدی و مولائی علیک الصلٰوۃ والسلام مدرسہ کی اصلاح کی طرف حضور نے جو توجہ فرمائی تھی۔اس کے لئے یہ سوچا گیا تھا کہ ایام کرسمس کی تعطیلات میں اس سوال کو عام طورپر جماعت کے اہل الرائے اورسنجیدہ لوگوں کے سامنے پیش کرکے فیصلہ کیا جاوے۔یہ امر توصرف شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْر کے ماتحت ہے ورنہ فیصلہ وہی ہے جو حضور پسند فرمائیں گے۔یہاں کے خدام کی جو رائیں ہیں وہ حضور سن چکے۔اور حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب کی جو رائے ہے وہ بھی حضور نے سن لی ہے۔اب اگر حضرت مولوی صاحب کی رائے کے موافق مدرسہ کو موجودہ صورت ہی پر رہنے دینا حضور پسند فرماتے ہیں اوراس میں کوئی ترمیم یا اصلاح حضور کا منشاء نہیں توپھر مولوی صاحب ممدوح کی رائے کو عملی صورت میں لانے کی تحریک ہو ورنہ جوحضور کا منشاء ہے اس کے موافق نصاب تعلیم وغیرہ تجویز ہو۔غرض حضور تحریری طور پر ارشاد فرمائیں تاکہ جماعت میں پیش کرکے آخری فیصلہ ہو۔سال قریب الختم ہے اس لئے اس کا انتظام ہو جانا از بس ضروری ہے۔۲۰؍دسمبر ۱۹۰۵ء والسلام خاکسار یعقوب علی عفی اللہ عنہ