مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 28
ایک صاحب المعروف سید عبد اللہ بغدادی جو قبل ازیں قادیان میں کچھ عرصہ رہ کر اب اپنے وطن کو واپس گئے ہیں۔ابتدا میں وہ اہل تشیعہ کے مشرب پر تھے۔دارالامان قادیان میں کسی شخص کے ساتھ یزید کے بارے میں ان کا تکرار ہوا جس کے باعث جانبین میں طیش آگیا۔عبد اللہ بغدادی نے اس امر کی شکایت حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام کے پاس لکھ کر بھیجی۔راقم حروف نے عبد اللہ بغدادی کا خط اور اس پر جو جواب حضرت اقدس نے اس کو لکھا استفادہ کے لئے نقل کر لئے تھے جو یہاں بمعہ ترجمہ درج کئے جاتے ہیں۔خط عبد اللہ صاحب بغدادی بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَّ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ مَسْئَلَۃٌ۔اِنْ کَانَ اَحَدٌ مِنْ مُخْلِصِیْکُمْ وَ یَلْعَنُ یَزِیْدًا فَھَلْ یَجُوْزُ اَنْ یُّلْعَنَ اَلْفَ مَرَّۃٍ بِسَبَبٍ اَنَّہٗ لَعَنَ یَزِیْدًا۔ثُمَّ نَسْئَلُ مِنْ جَنَابِکُمْ اَنْ تُبَیِّنَ لَنَا مَا قَدْرُ یَزِیْدَ وَ مَاشَانُہٗ وَ ھَلْ یَجُوْزُ عَلَیْہِ اللَّعْنَۃُ اَمْ لَا، وَ ھَلْ ھُوَ ظَالِمٌ اَمْ لَا۔أَفْتُوْنَا مِنْ عُلُوْمِکُمْ بِالْجِزْیَۃِ اَفَادَنَا اللّٰہُ مِنْھَا۔والسلام (اَقَلُّ الْعِبَادِ خَادِمُکُمْ عَبْدُ اللّٰہ) ترجمہ۔ایک مسئلہ درپیش ہے کہ اگر کوئی شخص حضور کے مخلصین میں سے ہواور وہ یزید کو لعنت کرتا ہو تو کیا جائز ہے کہ اس شخص پر کوئی شخص اس سبب سے ہزار بار لعنت باری کرے کہ وہ یزید کو ملعون کہتا ہے۔پھر میں حضور سے دریافت کرتا ہوں۔ظاہر فرماویں کہ یزید کا کیا قدر اور اس کی کیا شان تھی۔کیا یزید پر لعنت بھیجنیجائز ہے یا نہیں۔کیا یزید ظالم تھا یا نہیں۔اپنے علوم جزایہ سے ہمیں فتویٰ مرحمت کریں تاکہ ہم بہرہ مندی حاصل کریں۔٭ کمترین خادم عبد اللہ ٭ الحکم نمبر۴۰ جلد ۸ مورخہ ۲۴؍نومبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۳