مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 345

مکتوبات احمد ۳۴۵ جلد پنجم کتابیں بلا د مصر و عرب و شام و یورپ سے منگوا کر ایک نادر کتب خانہ طیار کیا ہے اور جیسے اور علوم میں فاضل ہیں مناظرات دینیہ میں بھی نہایت درجہ نظر وسیع رکھتے ہیں۔ بہت ہی عمدہ کتابوں کے مؤلف ہیں۔ حال میں کتاب تصدیق براہین احمد یہ بھی حضرت ممدوح نے ہی تالیف فرمائی ہے جو ہر ایک محققانہ طبیعت کے آدمی کی نگاہ میں جواہرات سے بھی زیادہ بیش قیمت ہے۔ منہ فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۷ حاشیه ) حضرت مولوی صاحب ۱۸۹۲ء میں حضرت اقدس کی زیارت کے لئے تشریف لائے تو حضور نے آپ کو اپنے پاس قادیان ٹھہرالیا۔ آپ کے بارہ میں حضرت اقدس کو یہ الہام ہوا کہ وو لَا تَصُبُونَّ إِلَى الْوَطَنُ فِيْهِ تُهَانُ وَتُمْتَحَنُ “ ( تذکره صفحه : ۶۵۲) حضرت اقدس نے مجھ سے فرمایا کہ وطن کا خیال چھوڑ دو چنانچہ میں نے وطن کا خیال چھوڑ دیا اور کبھی خواب میں بھی وطن نہیں دیکھا۔“ ۱۸۹۲ء میں آپ قادیان ایسے آئے کہ واقعی حضرت اقدس پر سارے قربان ہو گئے ۔ سفر و حضر میں حضور کی رفاقت تا وفات رہی ۔ خطبات اور نمازوں کی امامت کی توفیق ملتی رہی ۔ لیکھرام کی کتاب کتار تکذیب براہین احمدیہ کا جواب تصدیق براہین احمدیہ حضور کے ارشاد پر ارشاد پر تحریر فرمایا۔ ۱۹۰۲ء میں آپ نے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ( خلیفہ اسیح الثانی) کا ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین کی بیٹی صاحبزادی محمودہ بیگم سے نکاح پڑھا۔ ۱۹۰۲ ء میں آپ کا ایک خطبہ فونوگراف پر خطبہ فونوگراف پر ریکارڈ کیا گیا۔ حضرت اقدس کی وفات کے بعد ۲۷ رمئی ۱۹۰۸ ء کو بطور خلیفہ اسیح ، منصب خلافت پر فائز ہوئے اور ۶ سال تک نہایت نازک حالات میں اس الہی جماعت کی کامیاب قیادت فرمائی ۔ انگلستان میں پہلا مشن ہاؤس آپ کے عہد خلافت میں قائم ہوا۔ جہاں حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال پہلے مبلغ بھجوائے گئے ۔ آپ کا وصال ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ء کو ہوا۔ آپ کی وفات کے بعد ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو خلافت ثانیہ کا قیام عمل میں آیا اور آپ کی نماز جنازہ اور تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں ہوئی کی ☆ تین سو تیرہ اصحاب صدق و صفا صفحه ۱ ۵ تا ۵۵