مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 25
یہ قومیں جیسے مثلاً جٹ، ارائیں اپنے طور پر شریف ہیں اور بہت سے بااقبال آدمی ان میں پائے جاتے ہیں۔مگر افسوس کہ بڑی قوم کے آدمی ان لوگوں کو اپنی لڑکیاں دینا نہیں چاہتے۔چنانچہ یہ تجربہ ہو چکا ہے کہ بعض آدمی رشتہ کو قبول کر کے جب سنتے ہیں کہ فلاں شخص فلاں ذات کا ہے تو پھر منحرف ہو جاتے ہیں اور مردوں کی طرف سے جو جوان اور تعلیم یافتہ ہیں یہ شرط ہوتی ہے کہ جس لڑکی سے ان کی شادی کی تجویز کی جاوے وہ خوبصورت ہو۔عقلمند ہو۔باسلیقہ ہو۔چنانچہ حال میں ہی یہ اتفاق پیش آیا ہے کہ بعض اپنے لائق نوجوان تعلیم یافتہ دوستوں کی کسی جگہ ناطہ کی تجویز کی گئی اور پھر انہوں نے اپنے طور پر جاسوس عورتیں بھیج کر لڑکی کو دکھلایا اور جس جگہ شکل صورت اور لیاقت اور فہم ان کی مرضی کے موافق ثابت نہ ہوئے اس جگہ انہوں نے انکار کر دیا۔یہ مشکلات پیش آجاتی ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ ہر ایک مشکل کشائی پر قادر ہے۔آپ کو مناسب ہے کہ کبھی کبھی دو تین ہفتہ کے لئے ہمارے پاس قادیان میں آ جایا کریں۔کیونکہ صحبت میں علمی ترقی ہوتی ہے بلکہ اکثر آنا چاہیے۔اس میں بہت برکت اور فائدہ ہے۔زیادہ خیریت ہے۔٭ ۶؍جون ۱۸۹۹ء والسلام خاکسار مرز ا غلام احمد ٭ الفضل نمبر۵۸ جلد۱۰ مورخہ ۲۹ ؍جنوری ۱۹۲۳ء صفحہ ۲