مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 318
مکتوب نمبر۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبیّ مکرمی اخویم سید مہدی حسن صاحب سلمہُ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آں محب کے گیارہ روپے مرسلہ پہنچے میں نے اپنے لنگر خانہ کے لئے اس روپے کا آٹا لے کر اس طرح سے آپ کو اس کا ثواب پہنچایا کیونکہ جو ایک گروہ محتاجوں غریبوں حق کے طالبوں اور یتیموں اور بیوہ عورتوں کا اس لنگرخانہ سے تعلق رکھتا ہے اورر وٹی کے محتاج ہیں۔ان کی خبرگیری مقدم ہے۔یہ آپ کی صدق دلی اور محبت اور اخلاص اور خداترسی کا تقاضا ہے جو ایسے ثواب کے موقعوں پر آپ کو توجہ دلاتا ہے۔ملاقات کے بعد جس فراست نے آپ کی نسبت رائے لگانے کا مجھے موقعہ دیا ہے۔وہی فراست مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں آپ کو جہاں تک مجھ سے ہو سکتا ہے ان امور سے اطلاع دوں جن کے لئے میں مامور ہوں اور دنیا ان کو نہیں پہچانتی کیونکہ میں نے خداداد فراست سے سعادت کے نقوش آپ کے چہرہ پر مطالعہ کیے ہیں اور میرا خیال ہے کہ آپ دینی معارف اور باریک باتوں کو بہت جلد سمجھ سکتے ہیں اور پھر ان کی اشاعت کے لئے سعی اور کوشش کر سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں اپنے پاک دین کی اشاعت کے لئے ایک ارادہ فرمایا ہے جو نہایت عمیق حکمت پر مبنی ہے اور وہ یہ کہ دکھایا جائے کہ یہ دین ایسا پاک اور کامل دین ہے کہ نہ تو خدا کے حقوق بیان کرنے میں کوئی کوتاہی اور نقصان اس میں پایا جاتا ہے اور نہ بنی نوع کے حقوق قرار دینے میں کوئی کسر اس میں ثابت ہوتی ہے اور نہ اس دین کے منجانب اللہ ہونے میں کسی شبہ کی جگہ ہے خدا کے حقوق اگر پورے طور پر محفوظ