مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 317 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 317

کی وجہ سے جلد چلے جاتے ہیں لیکن پیچھے ان کو حسرت ہوتی ہے کہ کیوں جلد واپس آئے۔‘‘ اس موقع پر انہوں نے عرض کیا کہ میرا بھی یقینا یہی حال ہو گا اگر میں نواب محسن الملک صاحب اور دوسرے دوستوں کو تار نہ دے چکا ہوتا تو میں اور ٹھہرتا۔حضور نے آپ کی معذرت کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے فرمایا۔’’بہرحال میں نہیں چاہتا کہ آپ تخلّف وعدہ کریں اور جب کہ ان کو اطلاع دے چکے ہیں تو ضرور جانا چاہیے‘‘ چونکہ کانفرنس میں شریک ہونا تھا اس لئے جلد تشریف لے گئے اور پھر دارالامان آنے کے واسطے تڑپتے رہے اور بارہا تلاش موقع میں رہے مگر افسوس کہ وہ یہ آرزو دل ہی میں لے گئے۔آپ نے زیارت امام ہمام سے فیضیاب ہونے کے بعد لکھنؤ میں زور شور سے خدمت دین میں سرگرم ہو گئے۔وفات سے قبل آپ کو ایک ایسا عظیم ملی کارنامہ انجام دینے کی توفیق ملی جو برصغیر کی تاریخ میں زریں حروف سے لکھا جائے گا اور وہ یہ کہ ۱۹۰۴ء میں جب ایجوکیشنل کانفرنس کے انعقاد کا اعلان ہوا تو لکھنؤ میں ایک خوفناک مخالف برپا ہو گیا۔خدا کا فضل ہوا کہ دانش مندی ، دوراندیشی، استقلال اور ثابت قدمی نے غلط فہمیوں پر فتح پائی اور یہ اجلاس غیر معمولی طور پر کامیابی سے ہمکنار ہوا۔مسلمان فرقوں کی مصالحت اور کانفرنس کی کامیابی کا سہرا جن بزرگوں کا مرہون منت تھا ان میں آپ بھی تھے۔کانفرنس کے بعد جلد ہی آپ کو اپنے آسمانی آقا کا آخری بلاوا آ گیا جس پر لبیک کہتے ہوئے آپ ۱۳؍جنوری ۱۹۰۴ء کو انتقال فرما گئے۔٭ فہرست مکتوبات بنام حضرت نواب سید مہدی حسن صاحب ؓ فتح نواز جنگ ٭ تلخیص از روزنامہ الفضل ۱۵؍فروری ۲۰۰۷ء صفحہ ۳،۴