مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 316

حضرت نواب سیّدمہدی حسن صاحبؓفتح نواز جنگ حضرت نواب صاحب نے انگریزی سوسائٹی میں آنکھ کھولی اور مغربی طرز تمد ن و معاشرت میں نشوونما پائی تھی اور نازونعم کے ماحول میں پل کر علمی شہرت حاصل کی تھی۔فتح نواز جنگ حضرت سید مولوی مہدی حسن صاحب بیرسٹر ایٹ لاء سابق چیف جسٹس و ہوم سیکرٹری حیدر آباد دکن۔آپ علیگڑھ کالج کے ٹرسٹی اور آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے نامور اور ممتاز ممبروں میں سے تھے۔یہ وہ ادارہ تھا جس نے مسلمانان ہند کی علمی ترقی کے لئے ۱۸۸۶ء سے ۱۹۰۶ء تک سنہری خدمات انجام دیں۔مولوی صاحب موصوف نے علوم عربیہ کو باقاعدہ تحصیل کیا اور نئی روشنی سے بھی پورا حصہ لیا۔آپ کو حضرت اقدس امام ہمام کی خدمت میںحاضر ہونے کا شوق کیونکر پیدا ہوا؟ اس کا جواب خود نواب صاحب موصوف نے اثنائے گفتگو میں یہ دیا کہ پاوینیر میں بشپ لاہوری کے متعلق جب ایک چٹھی شائع ہوئی تو ان کو خیال پیدا ہوا کہ یہ کوئی معمولی انسان نہیں ہو سکتا جو اتنے بڑے آدمی کو ایک فوق العادت دعوت کرتا ہے جس کے متبعین میں اس درجہ اور طبقہ کے لوگ شامل ہیں۔اس کے بعد ان کو سیرت مسیح موعود کے پڑھنے کا اتفاق ہوا جس نے ان کو اپنا گرویدہ ہی تو کر لیا اور ان کی روح نے اندر ہی اندر ایک جوش پیدا کیا کہ ایک بار ایسے انسان کو ضرور دیکھنا چاہیے۔چنانچہ ۱۹۰۰ء میں حضرت سید مہدی حسن کانفرنس میں شرکت سے قبل قادیان دارالامان پہنچے اور ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۰ء کو امام عصر حاضر کی خدمت میں باریابی کا شرف نیاز حاصل کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی آمد پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا۔’’ہر ایک قدم جو صدق اور تلاش حق کے لئے اٹھایا جاوے اس کے لئے بڑا ثواب اور اجر ملتا ہے مگر عالم ثواب مخفی عالم ہے جس کو دنیادار کی آنکھ دیکھ نہیں سکتی…… خدا کی راہ میں سختی کا برداشت کرنا، مصائب اور مشکلات کے جھیلنے کے ہمہ تن تیار ہو جانا ایمانی تحریک ہی سے ہوتا ہے۔ایمان ایک قوت ہے جو سچی شجاعت اور ہمت انسان کو عطا کرتا ہے۔اس کا نمونہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی زندگی میں نظر آتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۴۰۶) پھرحضورؑنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔’’…… بعض اوقات انسان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ کہیں جاتا ہے اور پھر جلد چلا آتا ہے مگر اس کے بعد اس کی روح میں دوسرے وقت اضطراب ہوتا ہے کہ کیوں چلا آیا۔ہمارے دوست آتے ہیں اور اپنی بعض مجبوریوں