مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 292
مکتوبات احمد ۲۹۲ جلد پنجم کے لئے ہمیں خدا وند تعالیٰ نے بھیجا ہے اس میں فکر کرتا ۔ میں خوب جانتا ہوں کہ آجکل کسی کو کوئی عمل فائدہ نہیں دے سکتا سوا اس کے کہ مجھے اور میرے دعوے اور میرے دلائل کو پہچانے اور سمجھے۔ تیرے لئے ساری بھلائی اس میں ہے کہ عید کے بعد جانے کے خیال کو چھوڑ دو اور ہمارے پاس کچھ زمانہ رہ کر اس علم کو سیکھو جو علم ہم کو خدا وند تعالیٰ نے دیا ہے میں نہیں جانتا کہ صحت ایمان کے پہلے تجھے حج کو جانے میں کیا فائدہ حاصل ہوگا ۔ میں تجھے چار روپیہ بھیجتا ہوں جو ضرورت پیش ہے اس میں خرچ کرو ۔ اگر چاہو تو یہاں ہی رہو اور اگر جانا چاہو تو اسی خرچ کے ساتھ ہماری طرف سے رخصت ہو تیرا یہاں سے جانا اچھا نہیں بلکہ سراسر نقصان و زیاں ہے لیکن میں تجھے کس طرح سمجھاؤں ۔ آنکھیں نابینا نہیں ہیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ نابینا ہیں ۔ خدا سلامت رکھے ہر ایک ایسے شخص کو جو اسلام کا سچا تابعدار ہے۔ الراقم المتوكل على الله الاحد احمد علی اللہ عنہ