مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 290
محمد قدسی صاحب شامی قریباً عرصہ چھ سال کا گزرا ہے کہ قادیان میں دو شخص ایک بغدادی اور ایک شامی قریباً عرصہ چھ سال کا گزرا ہے کہ قادیان میں دو شخص ایک بغدادی اور ایک شامی بقصدِزیارت حضرت مسیح موعود ؑ واردہوئے۔شامی جو قوی ہیکل نوجوان آدمی تھا اس نے قادیان میں پڑھنے کی خواہش ظاہر کی چنانچہ حضرت حکیم الامت کے حلقہ درس میں شامل ہو گیا اور کتب وغیرہ جس چیز کا اس نے احتیاج ظاہر کیا اس کے لئے مہیا کیا گیا۔حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کو یہ بات سن کر بہت خوشی ہوئی کہ یہ شخص یہاں سے اپنی تعلیم کا نصاب پورا کر کے عربی بولنے والے ممالک میں جا کر تبلیغ کرے گا مگر قادیان چونکہ ایک معمولی قصبہ ہے جس کی آبادی غالباً تین ہزار آدمی کی ہو گی۔اس میں سے ہر منش آدمی کی طبیعت اکتا جائے تو کچھ تعجب نہیں۔شامی نے چند ماہ کے بعد ظاہر کیا کہ حج کا موسم قریب ہے۔حج کو جانا چاہتا ہوں۔حضرت اقدس کو ایک رقعہ لکھا اور کچھ روپے طلب کئے۔اس کا نام محمد قدسی مشہور تھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے محمد قدسی کو مندرجہ ذیل جواب نصیحتاً لکھا۔جس کو ہم بعینہٖ یہاں درج کرتے ہیں۔میں نے یہ خط محمد قدسی سے لے کر نقل کر لیا تھا۔( محمد فضل)٭ ٭ الحکم نمبر۴۰ جلد۸ مورخہ ۲۴؍نومبر ۱۹۰۴ صفحہ ۱۱