مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 279
۱۱؍اگست ۱۹۰۶ء کو مولوی محمد علی صاحب ایم اے نے مندرجہ ذیل خط حضرت مسیح موعود کو لکھا۔سیدی و مولائی سلّمکم اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ حضرت مولوی صاحب نے مجھے تحریر فرمایا تھا کہ میاں شادی خاں صاحب کو بلا کر مہر کا فیصلہ کیا جائے۔میں نے ان کو بلایا تھا۔وہ کہتے ہیں۔حضرت صاحب سے دریافت کیا جاوے۔اس لئے حضور مناسب حکم سے مطلع فرما دیں۔نیز مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ نکاح آج ہی ہو جاوے اور عائشہ کو بھی اطلاع دی جاوے جیسے حضور کا ارشاد ہو کیا جائے اگر حضور پسند فرماویں تو عصر کی نماز کے وقت ہو سکتا ہے۔والسلام خاکسار محمد علی مندرجہ بالا رقعہ کی پشت پر مندرجہ ذیل جواب حضور ارقام فرماتے ہیں۔مکتوب السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آج میری طبیعت دوران سر کے باعث اس قدر بیمار رہی ہے کہ چارپائی سے اٹھنا مشکل تھا۔اس وقت اٹھ کر بیٹھا ہوں۔مگر باہر آنے کے قابل نہیں۔میرے نزدیک پانسو روپیہ ()مہر کافی ہے۔اس قدر مہر اس لئے تجویز کرتا ہوں کہ یہ نکاح قوم میں نہیں ہے۔اور لڑکا ہونہار ہے۔اس پر کوئی بوجھ نہیں ہے۔امید کہ اس کی لیاقت اور حیثیت اس مہر سے بہت زیادہ ہو جائے گی۔میرے نزدیک اس سے کم ہرگز نہیں۔اگر زیادہ ہو تو مضائقہ نہیں۔٭ والسلام مرزا غلام احمد ٭ الفضل قادیان نمبر۷۴ جلد۱۵ مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۲۸ء صفحہ ۷