مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 243

یک شخص جس نے اس اخبار کی اشاعت میں شائد مجھ سے بڑھ کر حصہ لیا وہ قاضی ظہور الدین صاحب اکمل ہیں۔اصل میں سارے کام وہی کرتے تھے اگر ان کی مدد نہ ہوتی تو مجھ سے اخبار چلانا مشکل ہوتا‘‘۔(الفضل ۴؍جولائی ۱۹۲۴ء) قاضی صاحب کے قلم سے آج تک ۳۶ کے قریب تالیفات بھی شائع ہو چکی ہیں جن میں ’’ظہور المسیح‘‘ ’’ظہور المہدی‘‘ اور ’’الواح الہدی ٰ ‘‘ بہت مشہور ہیں۔(تاریخ احمدیت جلد ۱ صفحہ ۶۵۴ ) ۱۹۳۸ء میں ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد آپ خانہ نشین رہے۔تاہم مشق سخن برابر جاری رہی۔پاکستان کے قیام پر ۱۱؍اکتوبر ۱۹۴۷ء کے بعد لاہور میں فروکش رہے اور ۱۷؍ستمبر ۱۹۵۶ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے بلانے پر دارالصدر شرقی کے ایک کوارٹر میں رہائش اختیار کر لی جہاں ۲۷؍ستمبر ۱۹۶۶ء کو صبح چھ بجے حرکت قلب بند ہونے سے وفات پائی۔آپ کا مزار بہشتی مقبرہ ربوہ میں قطعۂ صحابہ اولین میں ہے۔اس طرح آپ کی یہ دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔؎ اے مسیحائے زماں صدقہ آل اطہر مقبرے میں مجھے مل جائے زمین تھوڑی سی٭ ٭ تلخیص از نغمات اکمل صفحہ ا تا ج از جنید ہاشمی صاحب