مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 242
حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکملؓ آپ ۲۵؍مارچ ۱۸۸۱ء کو پنجاب کی مردم خیز سرزمین دریائے چناب کے کنارے ضلع گجرات کے ایک گائوں گولیکی میں پیدا ہوئے۔آپ کے جدّامجد اور والد ماجد دونوں علوم عقلیہ و نقلیہ کے متبحر عالم تھے۔اگرچہ آپ نے دنیوی تعلیم مشن ہائی سکول گجرات میں میٹرک تک حاصل کی لیکن عربی و فارسی ، فقہ و حدیث اور علوم قرآنی پر( دستور کے مطابق) مسجد اور خانقاہوں میں عبور پایا۔آپ کو اردو علم و ادب اور صحافت سے بچپن ہی سے لگائو تھا۔چنانچہ ۱۷برس کی عمر ہی میں آپ کے مضامین ، نظم و نثر برصغیر کے تمام قابل ذکر اخبارات و رسائل میں شائع ہونے لگ گئے۔آپ چونکہ ۱۸۹۷ء ہی میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہو چکے تھے اس لئے دسمبر ۱۹۰۶ء میں گھربار چھوڑاپنے آقا و مقتدا کے حضور اس نیت کے ساتھ حاضر ہو گئے کہ ؎ ہم قادیاں کو چھوڑ کے ہرگز نہ جائیں گے کوچے میں اپنے یار کے دھونی رمائیں گے ۱۹۱۱ء تک آپ نے اخبار بدر میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر کام کیا اس کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے آپ کو رسالہ تشحیذ الاذہان کا ایڈیٹر مقرر کر دیا۔۱۹۲۰ء میںریویوآف ریلیجنز کی ادارت کے علاوہ آپ نے ناظم طبع و اشاعت کے مہتمم کا عہدہ سنبھالا جس کے تحت قادیان سے شائع ہونے والے سلسلہ کے تمام اخبار و رسائل الفضل، مصباح، سن رائیز اور احمدیہ گزٹ وغیرہ کی ایڈیٹری ، مینیجری آپ خود کرتے رہے۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’جب الفضل نکلا ہے اس وقت