مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 198
حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ تحریر کرتے ہیں۔جب میں قادیان کے ہائی اسکول کا ہیڈماسٹر تھا۔اُنہی ایّام میں مقدمہ کرم دین پیش آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُس مقدمہ کے دَ وران میں جب گورداسپور وغیرہ کو جانا ہوتا۔تو ہمیشہ عاجز کو اپنے ہمرکاب رکھتے۔اور عاجز حسب استطاعت ضروریات مقدمہ میں خدمات انجام دیتا رہتا۔ان مقدمات کے خاتمہ پر حسب درخواست جماعت سیالکوٹ۔حضورؑ اکتوبر، نومبر ۱۹۰۴ء میں سیالکوٹ تشریف لے گئے تو عاجز کو بھی بمعہ اہل بیت خود سیالکوٹ ساتھ جانے کا حکم ہوا۔اِس پر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم رضی اﷲ عنہ نے جو اس وقت سیالکوٹ میں تھے۔مجھے خط لکھا کہ ’’میرے نزدیک آپ کی غیبوُبت مدرسہ سے سخت مضرت پیدا کرے گی۔دُنیا کے انتظام دُنیا کے اصول کی پیروی سے چلتے ہیں۔آخر مقدمات میں آپ نے کیا عمل دکھایا ہے۔جس طرح وہاں قانون مسلم دُنیا کی پیروی کی ہے۔یہاں بھی کرنی چاہیے۔حضرت صاحبؑ کو آپ صاف کہیں کہ مدرسہ کا انتظام تباہ ہو گیا ہے۔مدرسہ کا اعتبار اُٹھ جائے گا اور کم ہو رہا ہے… ‘‘ میں نے یہ خط حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں بھیج دیا۔تاکہ حضورؑ چاہیں تو مجھے سیالکوٹ ساتھ نہ لے جائیں۔اس پر حضور ؑ نے مجھے لکھا۔مکتوب نمبر ۲۳ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ جو کچھ مقدمہ کا نتیجہ ہوا ہے۔وہ تو ایک آسمانی امر ہے۔اور ہم بہرحال انجام بخیر کی توقع رکھتے ہیں۔سیالکوٹ کے سفر کے لئے میں نے خود سوچ لیا ہے۔اِس ہفتہ عشرہ کے سفر میں آپ کو ساتھ لے جائوں۔آئندہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو خاتمہ سفر کا ہے۔میری طبیعت بہت علیل ہے۔سفر کے قابل نہیں۔اگر سیالکوٹ والے اِس سفر سے معذور رکھتے تو بہتر تھا۔چونکہ مصلحتِ وقت سے عیال اطفال ہمراہ ہوں گے۔اِس وجہ سے اسباب بھی زیادہ ہو گا۔اِس لئے میں نے تجویز کی ہے کہ آپ اس سفر میں کہ دس۱۰ د ن سے زیادہ نہیں ہو گا۔میرے ہمراہ چلیں۔اِن دس۱۰ دنوں کو اُنہیں گورداسپور کے دنوں میں شمار کریں۔ہر یک کی رائے اور مصلحت خدا تعالیٰ نے جُدا جُدا بنائی ہے۔اِس لئے میں نے اپنی رائے کے مناسب حال لکھا ہے۔بیشک دُنیا کے تدابیر کی الگ ہے۔اور میں اقرار کرتا ہوں کہ وہ مجھ میں نہیں ہے۔میرے لئے کافی ہے کہ خدا پر بھروسہ رکھوں۔والسلام ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۰۴ء مرزا غلام احمد عفی