مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 174
خطوط امام بنام غلام اﷲ تعالیٰ کا فضل ہو حکیم محمدحسین صاحب قریشی (موجد مفرّح عنبری) پر اور ان کی اَولاد پر۔حکیم صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پُرانے خدام میں سے ہیں اور حضرت صاحب کو جو ادویہ وغیرہ لاہور سے منگوانی ہوتی تھیں۔وہ بعض دفعہ حکیم صاحب کے ذریعہ سے منگواتے تھے اور بعض دفعہ منشی تاج الدین صاحب مرحوم ۱؎کے ذریعہ سے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وصال پر حکیم صاحب موصوف نے اُن تمام خطوط کو جو اُنہیں وقتاً فوقتاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے لکھے تھے، جمع کر کے ایک رسالہ کی صورت میں چھاپ کر شائع کیا تھا۔اور اس رسالہ کا نام خطوط اِمام بنام غلام رکھا تھا۔اُن کی طرح مَیں بھی اِس باب کا یہ نام رکھتا ہوں۔مجھے حضرت صاحبؑ کے دستی خطوط سب سے پہلے جموں میں ملے تھے۔جہاں مَیں ۱۸۹۰ء سے ۱۸۹۵ء تک مدرس رہا۔مگر وہ خطوط محفوظ نہیں رہے۔ان دنوں حضرت صاحبؑ کے ایک صاحبزادے مرزا فضل احمد صاحب مرحوم بھی جموں پولیس میں ملازم تھے۔اور وہ خطوط زیادہ تر اُنہیں کے حالات کے استفسار پر تھے۔۱۸۹۸ء سے ۱۹۰۰ء تک عاجزلاہور میں پہلے قریب چھ۶ ماہ مدرسہ انجمن حمایت اسلام شیرانوالہ دروازہ میں مدرّس رہا۔اور اس کے بعد ہجرت کرکے قادیان جانے تک دفتر اکونٹنٹ جنرل پنجاب میں بطور کلرک ملازم رہا۔اس عرصہ میں عاجز اکثر قادیان آتا رہتا تھا۔اس واسطے خط و کتابت کی چنداں ضرورت نہ رہتی تھی۔تاہم ان ایّام میں جو خطوط حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے عاجز کو پہنچے۔اُن میں سے بعض اب تک محفوظ ہیں۔درج ذیل کئے جاتے ہیں۔بعض خطوط کے مضامین کی وضاحت کے واسطے مَیں ساتھ ہی اپنا خط بھی چھاپ دیتا ہوں جس کے جواب میں وہ خط ہے۔تاکہ مطلب اچھی طرح سے سمجھ میں آئے:٭ ۱؎ منشی صاحب مرحوم کے فرزند شیخ مظفر الدین صاحب آج کل پشاور میں سامان بجلی کا کاروبار کرتے ہیں اور مخلص احمدی ہیں۔(مؤلف) ٭ ذکر حبیب صفحہ ۳۳۸، ۳۳۹ از حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ