مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 6

حضرت خان ذوالفقار علی خان صاحب گوہرؓ برصغیرہندو پاکستان کے مشہور سیاسی لیڈر علی برادران کے بڑے بھائی ۱۸۶۹ء میں بمقام رام پور ضلع مراد آباد (یو۔پی) میں پیدا ہوئے اور ۲۶؍فروری ۱۹۵۴ء کو لاہور میں انتقال فرمایا اور ربوہ میں صحابہ کے قطعہ میں سپرد خاک ہوئے۔۱۸۸۸ء میں ’’ریاض الاخبار‘‘ (گورکھپور) میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خط الیگزینڈر رسل ویب سفیر امریکہ فلپائن کے نام شائع ہوا تھا جسے دیکھ کر حضرت خان صاحب کو پہلی مرتبہ حضرت اقد س ؑ سے غیبی تعارف ہوا۔۱۹۰۰ء میں ’’ازالہ اوہام‘‘ کا مطالعہ کرتے ہی حضور ؑ کی خدمت میں بیعت کا خط لکھ دیا۔پہلی بار ۱۹۰۴ء میں بمقام گورداسپور حضور ؑ کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔اس وقت آپ نائب تحصیل دار تھے۔۱۹۲۰ء میں مستقل طور پر قادیان میں ہجرت کر کے آگئے ۱۹۲۴ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ جن خدام کو اپنے ساتھ یورپ لے گئے ان میں حضرت خان صاحب بھی تھے۔پاکستان بننے سے قبل کراچی میں کسی کانگرسی لیڈر نے آپ سے پوچھا کہ آپ کے دو چھوٹے بھائیوں نے تو وطن کی آزادی کے لئے جدوجہد کی آپ نے ایسا کیوں نہ کیا۔جو اب دیا میں بڑا بھائی تھا اس لئے میں نے اپنے ذمہ بڑا کام لیا۔اس نے پوچھا کون سا۔فرمایا ساری دنیا شیطان کی غلامی میں پھنسی ہے اور ساری دنیا کو آزاد کرانا ہندوستان کی آزادی سے بڑا کام ہے اس لئے میں اس تحریک میں شامل ہوں اور اس کا سپاہی ہوں جس تحریک کا یہی مقصد ہے یعنی تحریک احمدیت۔(رجسٹرروایات صحابہ( غیرمطبوعہ) جلد۶ صفحہ ۳۳۷ تا ۳۷۹۔الفضل ۱۳۔۱۶۔۱۷۔مارچ ۱۹۵۴ء)٭ آپ کے ایک صاحبزادے مولانا عبد المالک خان صاحب جماعت کے معروف عالم تھے اور بطور ناظر اصلاح وارشاد مرکزیہ خدمات بجا لاتے رہے۔٭ تاریخ احمدیت جلد۲ صفحہ ۱۶۳