مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 115
مکتوبات احمد ۱۱۵ جلد پنجم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ محبتی اخویم مکتوب نمبرے نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آج کے خط سے واقعہ معصومہ زینب پر اطلاع ہوئی :- إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ ۔ خدا تعالیٰ آپ کو معہ اس کی والدہ کے صبر بخشے اور بعد میں بعد میں ہر یک بلا سے بچاوے ۔ آمین ۔ دعا تو بہت کی گئی تھی مگر تقدیر مبرم کا کیا علاج ہے۔ میں نے پہلے اس سے دیکھا تھا یعنی الہام ہوا تھا کہ لاہور سے ایک خوفناک خبر آئی ۔ اس الہام کو میں نے اخبار میں شائع کر دیا تھا۔ سو وہ بات پوری ہوئی ۔ اور اب صبر کریں ۔ خدا تعالیٰ صبر پر اس کا اجر دے گا۔ والسلام ۲۷ مارچ ۱۹۰۷ء مرزا غلام احمد عفی عنہ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکتوب نمبر ۸ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ محتی اخویم حکیم محمد حسین صاحب قریشی سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اس وقت والدہ محمود احمد ہوا کی تبدیلی کے لئے لاہور آتی ہیں ۔ غالباً انشاء اللہ تعالیٰ دس دن تک لاہور میں رہیں گی اور بعض ضروری چیزیں پار چات وغیرہ خریدیں گی ۔ اس لئے اس خدمت کا ثواب حاصل کرنے کے لئے آپ سے بہتر اور کسی شخص کو میں نہیں دیکھتا۔ لہٰذا اس غرض سے آپ کو یہ خط لکھتا ہوں کہ آپ جہاں تک ہو سکے اس خدمت کے ادا کرنے میں اُن کی خوشنودی حاصل کریں اور خود تکلیف اُٹھا کر عمدہ چیزیں خرید دیں۔ باقی سب طرح سے خیریت ہے۔ ۱۴ جون ۱۹۰۷ء مرزا غلام احمد عفی عنہ