مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 108
ہاں جس قدر عقائد اور اعمال اور حدود کی تعلیم کے متعلق امور ہیں جو انسانوں کے لئے مدار نجات ہیں وہ نبی کو بتلائے جاتے ہیں۔تا امت اور خود نفس اس کا ان احکام سے محروم نہ رہے۔ایسے جاہلانہ خیالات سے توبہ کرو کہ ایمان ایک نازک چیز ہے۔خبیث فرقہ نصاریٰ کا اسی سے گمراہ ہو گیا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کے بارہ میں اطراء کیا اور صفات میں خدا تعالیٰ کے برابر ٹھہرا دیا۔انبیاء خدا تعالیٰ کے عاجز بندے ہیں۔اسی قدر علم رکھتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے پاتے ہیں۔ایسا انسان سخت جاہل بلکہ خبیث اور ناپاک طبع ہے جو خیال رکھتا ہے کہ ہر یک ضروری غیرضروری امر کا علم انبیاء کو دیا جاتا ہے۔نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۱؎ یعنی ہمارے پاس ہر ایک چیز کے خزانے ہیں۔مگر ہم بقدر معلوم زمین پر اتارا کرتے ہیں۔والسلاماب میں نے صاف صاف لکھ دیا ہے۔مجھ کو فرصت نہیں ہے کہ اس تفصیل کے بعد وقت ضائع کروں۔اگر مادہ فہم کا ہے تو خود سمجھ لو ورنہ خیر۔٭ ۶؍جون۰۳ء غلام احمد عفی عنہ ۱؎ الحجر :۲۲ ٭ الفضل نمبر۲۵۲ جلد ۳۱ مورخہ ۲۷ ؍ اکتوبر ۱۹۴۳ء صفحہ ۳