مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 107
مکتوبات احمد ۱۰۷ جلد پنجم اسلام میں کوئی بھی ایسا فرقہ نہیں جس کا یہ عقیدہ ہو کہ نبی کا علم خدا کے علم کے موافق ہوتا ہے۔ یا خدا پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے کلام کے تمام حقائق و دقائق نبی کو سمجھا دے ۔ ہاں جسقد رحصہ کلام الہی کا تبلیغ کے لئے ضروری ہے وہ تو نبی کو سمجھایا جاتا ہے اور جو ضروری نہیں اس کا سمجھانا ضروری نہیں ۔ یعقوب کو چالیس برس تک با وجود متواتر دعاؤں کے خبر نہ ہوئی کہ یوسف کہاں ہے اور پہلی کتابوں میں لکھا تھا کہ جب تک الیاس نبی نہیں آئے گا عیسی بن مریم نہیں آئے گا اور کسی نبی کو خبر نہ ہوئی کہ الیاس سے مراد اس کا مثیل ہے۔ جب حضرت عیسی علیہ السلام آئے اور ان پر اعتراض کیا گیا کہ الیاس نبی تو اب تک آسمان سے نہیں آیا تم کس طرح آ گئے تب خدا سے اطلاع پا کر انہوں نے جواب دیا کہ الیاس سے مراد یحییٰ نبی ہے اسی کو الیاس سمجھ لو اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حدیبیہ کے سفر میں خبر نہ ہوئی کہ ہم اس سفر میں ناکام رہیں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی ہوئی کہ پتھریلی اور کھجوروں والی زمین ان کی ہجرت گاہ ہوگی ۔ پس آپ نے سمجھے میں غلطی کھائی اور خیال کیا کہ وہ یمامہ ہے حالانکہ وہ مدینہ تھا۔ ایسا ہی لکھا ہے اور غالبا تفسیر معالم میں بھی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِر ے تو آپ نے فرمایا کہ اس کے معنے مجھے معلوم نہیں اور مقطعات کے معنوں میں آپ کی طرف سے کوئی قطعی اور یقینی تاویل مروی نہیں اگر آپ کو ان کا علم دیا جاتا تو ضرور آپ فرما دیتے ۔ ماسوا اس کے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے علم پاتا ہوں مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی معلوم ہے کہ خدا پر حق واجب نہیں کہ ہر یک بات نبی کو سمجھا دے اس کا اختیار ہے کہ بعض امور کو کسی وقت تک مخفی رکھے ۔ دیکھو احد اور حنین کی لڑائی میں کیسے کیسے ابتلا پیش آئے ۔ اگر اللہ تعالیٰ پہلے سے اپنے نبی کو سمجھا دیتا تو کیوں وہ ابتلا پیش آتے جو شخص نبی کا علم خدا تعالیٰ کے علم کی طرح غیر محدود سمجھتا ہے یا خدا تعالیٰ پر واجب سمجھتا ہے ہر یک امر ہر یک مخفی حقیقت نبی کو بتلا دے وہ گمراہ ہے اور قریب ہے کہ اس گمراہی پر اصرار کر کے کافر ہو جائے ۔ ا القمر : ٣