مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 90
مکتوبات احمد ۹۰ جلد چهارم اور بحمد الله حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی ہیں ۔ اللہ بالیقین آپ پر یہ منکشف ہو گیا کہ اس وقت کے ہادی اور امام جس کے ہم منتظر تھے یوں آپ خدا تعالی کی براہ راست راہنمائی کے نتیجہ میں ۱۹۰۵ء میں ہی حضرت مسیح موعود کی صداقت پر صدق دل سے ایمان لے آئے تھے ۔ مگر بیعت اس وجہ سے نہ کر سکے کہ آپ کو علم نہ تھا کہ خط کے ذریعہ بھی بیعت کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ اسی انتظار میں رہے کہ کب قادیان حاضرِ خدمت ہو کر دستی بیعت کا شرف حاصل کریں ۔ ۱۹۰۷ء میں جیسے ہی حضرت سیٹھ ابراہیم صاحب سے معلوم ہوا کہ عریضہ کے ذریعہ بھی بیعت پیش کی جاسکتی ہے تو آپ نے بلا توقف مکرمی زین الدین محمد ابراہیم صاحب کے گھر سے ہی بیعت کا خط تحریر کر دیا۔ تحریری بیعت ی بیعت کے چند ماه بعد ۱۵ استمبر ۱۹۰۷ء برو ر ۱۵ ارستمبر ۱۹۰۷ء بروز اتوار ظہر کی نماز سے قبل آپ قادیان دارالامان حاضر ہوئے اور نماز کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام سے مسجد مبارک میں ہی بالمشافہ حاضری کا شرف حاصل کیا ۔ ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی آپ کو نظام وصیت میں شمولیت کی ن سعادت نصیب ہوئی ۔ آپ ۳ را کے موصی تھے ۔ آپ نے ایک حج حضرت مسیح موعود کی نیت سے اور ایک حج حضرت مصلح موعود کی نیت سے بھی کیا تھا ۔ آپ کی انتہائی خوش نصیبی ہے کہ یکم فروری ۱۹۲۶ء کو آپ کی بیٹی الحاجہ سیدہ عزیزہ بیگم وو صاحبه المعروف به ام وسیم صاحبہ حضرت مصلح موعودؓ کے عقد زوجیت میں آئیں اور خواتین مبارکہ کے زمرہ میں شامل ہوئیں ۔ اگر چہ جدہ میں آپ کے اس وقت کے شریف مکہ سے گہرے روابط تھے مگر قبول احمدیت کی وجہ سے ملک بدر کر دیئے گئے تو آپ ہجرت کر کے مستقل رہائش کے لئے قادیان آ گئے ۔ اور پھر قادیان سے ہجرت کر کے ربوہ آ گئے ۔ آپ • ارجنوری ۱۹۵۵ء کو ۹۰ سال کی عمر پا کر بہشتی مقبرہ ربوہ میں صحابہ کرام کے مدفنوں کی معیت میں آسودہ خاک ہیں ۔ ۔ تلخیص از مصالح العرب جلد اول صفحه ۲ ۵ تا ۵۹