مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 89
مکتوبات احمد ۸۹ جلد چهارم حضرت سیٹھ ابو بکر یوسف صاحب حضرت ابو بکر یوسف صاحب رضی اللہ عنہ المعروف بہ سیٹھ ابو بکر یوسف آف جدہ ابن مکرم محمد جمال یوسف صاحب متولد پیٹن ضلع گجرات احمد آباد ریاست بڑودہ ہندوستان ۔ آپ کی پیدائش غالبا ۱۸۶۵ء بنتی ہے ۔ آپ صدیقی النسب تھے اور گزشتہ تین سو سال سے آپ کے آباؤ اجداد کے مستقل گھر دو ملکوں میں تھے۔ ایک گھر گجرات کا ٹھیاواڑ میں تھا اور ایک عرب میں ۔ عرب میں آپ کے دو گھر تھے ایک مکہ معظمہ میں اور دوسرا جدہ میں جو آپ کی تجارت کا مرکز ہونے کی وجہ سے زیادہ معروف ومشہور تھا۔ دو ممالک میں گھر ہونے کی وجہ سے عرب سے ہندوستان آپ کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ عرب اور ہندوستان میں آپ ایک بڑی اعلیٰ ساکھ کے مالک تاجر تھے ۔ آپ بمبئی سے سفید جوار، چاول اور کالی مرچ عرب میں لے جاتے مگر زیادہ نام آپ نے ہیرے جواہرات کی تجارت میں کمایا۔ آپ کو دین کا گہرا علم تھا اس لئے آپ کا عبادات، مناجات اور مجاہدات کی طرف بھی بہت رجحان تھا۔ عالم اسلام کی زبوں حالی کے تصور سے آپ کی حالت بسا اوقات یوں ہو جاتی کہ گویا آپ کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ ایک رات کچھ ایسے ہی لمحات میں گزر ہوئی اور جبکہ طلوع فجر کا عمل تھا کہ ایک نظارہ دیکھا جس میں آپ کو روضۂ اقدس حضرت رسول کریم ﷺ پر پانچ منور چراغ دکھائے گئے ۔ پھر وہی پانچ منور چراغ بارہ چراغوں کی صورت میں نو را فشاں کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔ پھر ایک اور چراغ ان سب کے سوا دکھائی دیا جو شعلہ پکڑنے سے پہلے پھڑ پھڑا رہا تھا اور پھر وہ چراغ ایک شان سے بقعہ نور ہو گیا ۔ یہ نظارہ دیکھنے کے بعد یہی خیال آتا رہا کہ بارہ اماموں کا نورانی زمانہ تو گزر چکا ہے اس لئے آخری امام الزمان کے نور کے ظہور کا وقت قریب ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا ظہور ہو چکا ہو۔ اس کی تلاش کرنی چاہئے۔ ایسے میں بالآ خر خدا کے فضل نے آپ کی دستگیری فرمائی