مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 577
حضرت منشی گلاب دین صاحب رہتاسیؓ حضرت منشی گلاب دین رضی اللہ عنہ کا مسکن رہتاس ضلع جہلم تھا۔آپ سکول ٹیچر تھے اور بڑے اعلیٰ پایہ کے شاعر بھی۔آپ کے والد صاحب کا نام منشی شرف الدین تھا۔آپ کا سلسلہ نسب حضرت علیؓ کی غیرفاطمی اولاد سے ہے۔آپ کا خاندان مغل بادشاہ نصیر الدین ہمایوں کے ساتھ وادی سون سکیسر سے ہوتا ہوا رہتاس آیا۔آپ قبول احمدیت سے قبل شیعہ خیالات رکھتے تھے اور اپنے علاقہ کے مشہور واعظ اور ذاکر تھے… منشی صاحب یوم عاشور اورچہلم کے مواقع پر مجالس عزا سے خطاب کرتے تھے ا ور اہل تشیع میں مقبول اور ہر دلعزیز تھے۔قبول احمدیت کے بعد آپ نے یہ تمام مصروفیات ترک کر دیں اور حضرت امام مہدی آخر الزمان کے دامن سے وابستہ ہو کر احمدیت کے شیدائی بن گئے۔آپ جب جہلم تشریف لایا کرتے تو مسجد واقع نیا محلہ میں نماز جمعہ پڑھاتے اور درس دیتے تھے۔حضرت منشی گلاب دینؓ نے رہتاس میں تعلیم کے لئے پہلا مڈل سکول قائم کیا۔حضرت مولانا برہان الدین جہلمی رضی اللہ عنہ قادیان اور ہوشیار پور سے حضرت اقدس ؑکی زیارت کے بعد لوٹے۔تو منشی صاحب نے کچھ اعتراض کئے۔اس پر حضرت مولوی برہان الدین ؓ نے کہا پہلے اسے جا کر دیکھ آئو پھرمیرے ساتھ بات کرنا۔چنانچہ منشی صاحب اور آپ کے ایک قریبی رشتہ دار ملک غلام حسین قادیان پہنچے۔حضرت اقدس ؑ سیر سے واپس آرہے تھے تو ملاقات ہوئی۔آپ حضرت اقدس ؑ کا نورانی چہرہ دیکھ کر واپس آ گئے۔بعد میں جب حضرت اقدس ؑ نے دعویٰ کیا تو بیعت کا خط لکھ دیا۔آپ کی بیعت ۸؍ستمبر ۱۸۹۲ء کو حضرت اقدس مسیح موعود ؑ نے منظور