مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 565
حضرت حکیم فضل الدین صاحب بھیرویؓ حضرت حکیم مولوی حافظ فضل الدین رضی اللہ عنہ بھیرہ کی ایک معزز خواجہ فیملی سے تعلق رکھتے تھے جو حضرت مولانا نورالدین صاحب (خلیفۃ المسیح الاوّلؓ ) کے بچپن کے دوست تھے۔آپ اکثر حضور کی خدمت میں قادیان حاضر ہوتے تھے۔آپ کی بیعت غالباً۱۸۹۰ء کی ہے کیونکہ’’ فتح اسلام‘‘ میں آپ کے صدق و اخلاص اور مالی قربانی کا ذکر ہے۔آپ کی ہر دوزوجہ نے بیعت کی۔آپ کی اہلیہ حضرت فاطمہ صاحبہ کی بیعت کا اندراج رجسٹر بیعت میں ۱۰۳ نمبر پر ہے۔آپ کی دوسری زوجہ حضرت مریم بی بی صاحبہ تھیں۔آپ سلسلہ کی خدمت دل کھول کر کرتے تھے۔آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کی خوشنودی حاصل تھی۔ایک روز حکیم فضل الدین ؓ نے حضرت اقدس مسیح موعود ؑ سے عرض کیا کہ یہاں میں نکماّ بیٹھا کیا کرتا ہوں مجھے حکم ہو تو بھیرہ چلا جائوں وہاں درس قرآن کروں گا یہاں مجھے بڑی شرم آتی ہے کہ میں حضور کے کسی کام نہیں آتا اور شاید بیکار بیٹھنے میں کوئی معصیت ہو حضور ؑ نے فرمایا آپ کا بیکار بیٹھنا بھی جہاد ہے اور یہ بے کاری ہی بڑا کام ہے۔قادیان میں آپ نے مطبع ضیاء الاسلام قائم کیا جس میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں چھپتی تھیں۔اس کے علاوہ مدرسہ احمدیہ کے سپرنٹنڈنٹ اور کتب خانہ حضرت مسیح موعود ؑکے مہتمم اور لنگر خانہ حضرت مسیح موعود ؑ کا کام آپ کے سپرد تھا۔حضرت اقدس ؑ کے چھ گروپ فوٹوز میں سے چار میں شامل ہونے کا آپ کو اعزاز ملا۔حضرت اقدس ؑ فتح اسلام میں فرماتے ہیں۔’’… حکیم صاحب ممدوح جس قدر مجھ سے محبت اور اخلاص اور ُحسنِ ارادت او ر اندرونی تعلق رکھتے ہیں میں اس کے بیان سے قاصر ہوں۔وہ میرے سچے خیرخواہ اور دلی ہمدرد ا