مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 548 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 548

مکتوب نمبر۵ ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیز ی شیخ غلام نبی صاحب سلّمہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کل کی ڈاک میں مجھ کو آپ کا عنایت نامہ ملا۔میں امید رکھتا ہوں کہ آپ کی اس نیک نیتی اور خوف الٰہی پر اللہ تعالیٰ خود کوئی طریق مخلصی پیدا کر دے گا۔اس وقت تک صبر سے استغفار کرنا چاہیے اور سوُد کے بارے میں میرے نزدیک ایک انتظام احسن ہے اور وہ یہ ہے کہ جس قدر سوُد کا روپیہ آوے آپ اپنے کام میں اس کو خرچ نہ کریں بلکہ اس کو الگ جمع کرتے جائیں اور جب سوُد دینا پڑے اس روپیہ میں سے دے دیں اور اگر آپ کے خیال میں کچھ زیادہ روپیہ زیادہ ہو جائے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں ہے کہ وہ روپیہ کسی ایسے کام میں خرچ ہو جس میں کسی شخص کا ذاتی خرچ نہ ہو بلکہ صرف اس سے اشاعت دین ہو۔میں اس سے پہلے یہ فتویٰ اپنی جماعت کے لئے بھی دے چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو سوُد حرام فرمایا ہے وہ انسان کی ذاتیات کے لئے ہے۔حرام یہ طریق ہے کہ کوئی انسان سوُد کے روپیہ سے اپنی اور اپنے عیال کی معیشت چلاوے یا خوراک یا پوشاک یا عمارت میں خرچ کرے یا ایسا ہی کسی دوسرے کو اس نیت سے دے کہ وہ اس میں سے کھاوے یا پہنے۔لیکن اس طرح پر کسی سوُد کے روپیہ کا خرچ کرنا ہرگز حرام نہیں ہے کہ وہ بغیر اپنے کسی ذرہ ذاتی نفع کے خدا تعالیٰ کی طرف ردّ کیا جائے یعنی اشاعت دین پرخرچ کیا جائے۔قرآن شریف سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر یک چیز کا مالک ہے۔جو چیز اس کی طرف آتی ہے وہ پاک ہو جاتی ہے بجز اس کے کہ ایسے مال نہ ہوں کہ انسانوں کی مرضی