مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 547 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 547

(۱) ایک یہ کہ تمام بنی نوع کو اس میں شریک رکھے۔(۲) تمام مسلمانوں کو۔(۳) تیسرے ان حاضرین کو جو جماعت نماز میں داخل ہیں۔پس اس طرح کی نیت سے کل نوع انسان اس میں داخل ہوں گے۔اور یہی منشاء خدا تعالیٰ کا ہے۔کیونکہ اس سے پہلے اسی سورت میں اس نے اپنا نام ربُّ العالمین رکھا ہے۔جو عام ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے۔جس میں حیوانات بھی داخل ہیں۔پھر اپنا نام رحمان رکھا ہے۔اور یہ نام نوع انسان کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے۔کیونکہ یہ رحمت انسانوں سے خاص ہے۔اور پھر اپنا نام رحیم رکھا ہے اور یہ نام مومنوں کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے۔کیونکہ رحیم کا لفظ مومنوں سے خاص ہے اور پھر اپنا نام مالک یوم الدین رکھا ہے اور یہ نام جماعت موجودہ کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے۔کیونکہ یَوْمُ الدِّیْن وہ دن ہے جس میں خدا تعالیٰ کے سامنے جماعتیں حاضر ہوں گی۔سو اسی تفصیل کے لحاظ سے اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کی دعا ہے۔پس اس قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دعا میں تمام نوع انسانی کی ہمدردی داخل ہے اور اسلام کا اصول یہی ہے کہ سب کا خیر خواہ ہو۔٭ ۱۴؍اکتوبر ۱۸۹۸ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ٭ الحکم نمبر ۳۳ جلد ۲ مورخہ ۲۹؍ اکتوبر ۱۸۹۸ء صفحہ ۴