مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 541
مکتوبات احمد ۵۴۱ جلد چهارم حضرت شیخ غلام نبی صاحب حضرت شیخ غلام نبی صاحب رضی اللہ عنہ موضع کوٹھیاں ضلع چکوال کے رہنے والے تھے جو رضی اللہ عنہ بعد میں بسلسلہ تجارت راولپنڈی چلے گئے آپ کے والد کا نام شیخ فضل دین تھا خواجگان برادری تجارت کلکتہ بنگال سیٹھی فیملی سے تعلق رکھتے تھے ۔۱۸۹۲ء میں جب حضرت مولوی عبد الکریم سیالکوٹی کے چا چو ہدری محمد بخش سیالکوٹی راولپنڈی گئے تو ان دنوں حضرت شیخ غلام نبی صاحب راولپنڈی میں تھے ۔ چوہدری محمد بخش صاحب نے ذکر کیا کہ حضرت مرزا غلام احمد رض رض نے مسیح و مہدی ہونے کا دعوی کر دیا ہے ۔ حضرت شیخ صاحب کا اس سے قبل حضرت حافظ حکیم ۔ سے مولانا نور الدین رضی اللہ عنہ (خلیفۃ المسیح الاوّل ) اور مولوی عبداً اعبدالکریم سیالکوٹی سے قریبی رابطه معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے آپ پ نے نے۔ موصوف سے پوچھا کہ مولوی نورالدین صاحب (خلیفة المسیح الاول ) اور مولوی عبدالکریم سیالکوٹی کا کیا حال ہے انہوں نے آپ سے کہا کہ دونوں قادیان گئے ہیں ۔ چنانچہ آپ کی درخواست پر چوہدری صاحب کا رڈ لے آئے ( حضرت شیخ صاحب بخار میں مبتلا تھے ۔ ) بیعت کا کار کا کارڈ انہوں نے ہی لکھا اور آپ نے آمَنَّا وَ صَدَّقْنَا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ لکھ کر دستخط کر دیئے ۔ سیٹھی غلام نبی کے احمدیت قبول کرنے پر بھائیوں میں اختلاف ہوا اور کاروبارا لگ الگ ہو گیا ۔ تھوڑی مدت کے بعد آپ قادیان گئے تو حضرت اقدس کے بالا خانے پر حضرت اف حضرت اقدس کے خادم حضرت حافظ حامد علی کے ساتھ ملاقات ہوئی ۔ حضرت اقدس کھڑے رہے اور آپ کو چار پائی پر بیٹھنے کو کہا اور خود ایک بکس میں سے مصری نکالی اور خود شربت بنا کر آپ کو پلایا۔ مذکورہ ملاقات میں آپ نے حضرت اقدس سے براہین احمد یہ مانگی جو ختم ہو چکی تھی ۔ صرف ایک نسخہ حضرت کے استعمال کا تھا جسے آپ نے سیٹھی صاحب کو دے دیا۔ واپسی پر آپ بھیرہ حضرت حکیم مولانا نورالدین (خلیفة المسیح الاوّل) سے ملاقات کر کے گھر واپس آئے ۔ ایک روایت کے مطابق بود۔ آئینہ کمالات اسلام توسیع کے زیر تصنیف کے ۸۰ صفحات حضرت اف ضرت اقدس نے آپ کو دیئے ۔ ایک دفعہ سیٹھی صاحب کا قیام حضرت مولانا حکیم نور الدین (خلیفہ المسیح الاول ) کے گھر