مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 497 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 497

مکتوبات احمد بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۴۹۷ مکتوب نمبر ۳ محبتی مکرمی اخویم مولوی غلام حسن صاحب سلمہ جلد چهارم نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي م عليكم ورحمة الله و بركاته السلام علیکم و کل میرے نام میاں عبدالحنان صاحب کا خط آیا تھا کہ صفیہ کچھ زیورات وغیرہ میرا اسباب لے آئی ہے وہ مجھے واپس ملنا چاہیئے ۔ اس بارے میں میں نے صفیہ سے دریافت کیا وہ کہتی ہے کہ میں نے کوئی اسباب عبد الحنان کا نہیں لیا اس نے خود مولوی صاحب کے گھر مجھے پہنچایا تھا اور میرے ساتھ آیا تھا البتہ یہ زیور جو مجھے دیا تھا میرے پاس ہے ۔ وزن حل طلب مسئلہ ہے۔ جگنی سونے کی ۔ کڑے ہاتھوں کے اور چوڑیاں چاندی کی ۔ پیروں کی پائل چاندی اور جھمکے سونے کے جو آئے تھے وہ خود عبدالحنان نے بیچ دیئے تھے ۔ اب بموجب شرع شریف فتویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ خاوند اور عورت کی مفارقت کی حالت میں وہ چیزیں جو خاوند نے عورت کو دی ہوں وہ واپس نہیں ہوں گی گوسونے کا پہاڑ ہو۔ پس زیور جو دیا گیا کسی صورت میں واپسی کے لائق نہیں ۔ باقی رہا مہر ۔ پس اگر طلاق ہو یا خلع ہو۔ اگر ایسی صورت ہو کہ اصل مفارقت کا موجب خاوند ہو اور اس کی کسی بدخلقی اور تکلیف دہی سے طلاق یا خلع تک نوبت پہنچی ہو تو مہر دینا پڑتا ہے بلکہ اگر صفیہ نکاح کی حالت میں مہر کی نالش کرتی تو بموجب قانون اور شرع کے عبدالحنان پر ڈگری ہو جاتی ۔ اس صورت میں ایک طرح سے صفیہ مظلوم ہے کہ پانچ سو روپیہ کا اس کا نقصان ہو گیا۔ اب بہر حال میاں عبدالحنان کو اس فیصلہ پر خوش ہونا چاہیئے کہ صفیہ کا تو مہر ضائع ہوا اور اُس کا زیور ۔اس کے بعد کوئی جھگڑا ہرگز مناسب نہیں ہے مہر تو ایسی چیز ہے کہ اس میں استحباب یہی ہے کہ اسی وقت یعنی نکاح کے ادا کر دیا جائے اگر خاوند کی طرف سے حسن معاشرت میں فرق نہ آتا تو اس حالت میں خلع سے مہر باطل ہوتا مگر یہ ایسی صورت نہیں ۔ پھر اگر خاوند کی رجولیت میں فرق ہے تو